امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دورے کے لیے پھر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی اعلیٰ ترین سفارت کار انٹونی بلینکن جمعرات کے روز سے پھر مشرق وسطیٰ کے دورے پر آئیں گے۔ یہ بات امریکی ترجمان دفتر خارجہ میتھیو ملر نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ وہ ایک ہفتے بھر کے لیے اسرائیل اور سعودی عرب سمیت خطے کے تمام اہم کھلاڑی ملکوں میں جائیں گے اور خطے کے مستقبل کے بارے میں مشورے کریں گے۔

تاہم ان کے اس دورے کا اہم موضوع غزہ کی جنگ ہوگی اور اس کے اثرات کو غزہ سے باہر نکلنے سے روکنا ان کے ایجنڈے پر ہے۔ وزیر خارجہ نے اس مقصد کے لیے اس بار ترکیہ اور یونان کے دورے کو بھی اپنے اسی شیڈول میں رکھا ہے ، تاکہ اس قضیے سے براہ راست اور بالواسطہ جڑے تمام اہم ملکوں کے ساتھ معاملات کو دیکھ سکیں۔

اسرئیل، سعودی عرب ، متحدہ عب امارات ، قطر ، مصر، اردن اور مغربی کنارے میں اہم ملاقاتیں ان کے اس دورے کا بدرجہ اولیٰ حصہ ہیں کیونکہ ان کے اس دورے سے پہلے ہی یہ واقعات دیکھنےمیں آرہے ہیں کہ غزہ کی جنگ کے اثرات اب مغربی کنارے، لبنان اور بحیرہ احمر پرنمایاں ہونے لگے ہیں۔

حماس کے علاوہ دوسری مزاحمتی تحریکیں بھی اس میں کود سکتی ہیں اور یہ جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ جبکہ امریکہ کا اعلان کردہ موقف ہے کہ جنگ پھیلنی نہیں چاہیے ۔

امریکی ترجمان کے مطابق انتونی بلنکن اس سلسلے میں تمام ملکوں کی قیادت کے ساتھ بات کریں گے کہ کس طرح جنگی پھیلاؤ کو روکا جائے۔

میھتیو ملر نے اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران کہا ' یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے کہ جنگ پھیلے، یہ اسرائیلی مفاد میں ہے نہ پورے خطے کے مفاد میں ہے اور نہ ہی دنیا کے مفاد میں جنگ غزہ سے باہر نکل جائے۔'

ملر کے بقول بلینکن انسانی بنیادوں پر غزہ میں یرغمالی بنائے گئے اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کے علاوہ غزہ میں امدادی کاموں کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے تاکہ امدادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں