شرق اوسط

امریکہ اور یورپ نے غزہ جنگ روکنے کے نئے سفارتی مرحلے کا آغاز کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ جو سات اکتوبر سے اب تک اسرائیل کم از کم تین دورے کر چکے ہیں اب اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے چوتھے دورے کا ارادہ کر چکے ہیں۔

ان کے علاوہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل جمعہ کے روز اسی مقصد کے لیے علاقے میں پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔ تاکہ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے ، لبنان اور بحیرہ احمر میں جنگ پھیلنے کو روکنے کی تدبیر کرنے آئے ہیں۔

ان امریکی و یورپی رہنماؤں کے دورے تین ماہ سے جاری ہیں۔ اس دوران غزہ میں فلسطینی حکام کے مطابق 22600 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد 57 ہزار سے متجاوز اور بے گھروں کی تعداد سب سے زیادہ بیس لاکھ سے اوپر ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حماس سے وابستہ 8000 فلسطینی جنگجو ہلاک کیے ہیں اور اس کے سات اکتوبر کو 1200 لوگ مارے گئے تھے۔ تاہم غزہ میں اب بھی اسرائیلی بمباری اور حملوں کا سلسلہ ہے کہ جاری ہے۔

اس دوران مکمل جنگ بندی کی اسرائیلی ، امریکہ اور یورپی ملک کھلی مخالفت کرتے رہے ہیں کہ اس صورت میں حماس کو فائدہ ہو گا ۔ تاہم جنگ میں مختصر وقفوں کی بات امریکی و یورپی سفارت کار کرتے رہے ہیں۔

اسرائیلی جہازوں کی بمباری اور ٹینکوں کی گولہ باری آج بھی جاری ہے۔ رات کے وقت گنجان آبادی کے علاقے المغازی، البریج اور النصرات نشانے پر تھے۔ چوبیس گھنٹوں کے دوران حملوں میں مزید 162 فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔

علاوہ ازیں جنوبی غزہ کے علاقوں خان یونس وغیرہ میں تازہ حملوں کے نتیجے میں 22 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ فلسطینی محکمہ صحت کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ 10 افراد اکیلے البایوک خاندان کے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ صلیب احمر کے مطابق النصیرات میں چار اور دیر البلاح میں 3 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

بعد ازاں محکمہ صحت کے اہلکاروں نے مزید دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

رفح میں رہنے والے ایک فلسطینی نے اپنے گھر پر بمباری کے بعد بات کرتے ہوئے عبدالرزاق ابو سینجر کہا ' اسرائیل جمہوریت اور انسانیت کے دعوے کرتا ہے مگر یہ سب درندگی ہے، انسانیت نہیں ہے۔ ' ابو سینجر کی اہلیہ اور بچوں کی اسی بمباری میں ہلاکت ہو گئی اور وہ ان کی لاشوں کے سامنے کھڑے ہو کر یہ بات کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں