صدارتی انتخاب 2024 مہم ، جوبائیڈن نے ٹرمپ کو بیمار، نازی اور ہارا ہوا قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر جوبائیڈن نے 2024 کے صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے آغاز پر ہی اپنے ممکنہ مد مقابل ڈونلڈ ٹرمپ کو ہارا ہوا ، بیمار اور نازی قرار دیا ہے۔ یہ مہم جمعہ کے روز شروع ہوئی ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ اس سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کی مہم زیادہ غصے اور الزام تراشیوں سے بھر پور ہوگی۔

جوبائیڈن نے اپنی مہم کے شروع کرتے ہی ممکنہ ریپبلکن صدارتی امیدوار کے بارے میں کہا 'ان کی صورت میں نازیوں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے یہ جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔'

81 سالہ صدر اور اگلے صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار نے اپنے مخالف امیدوار کا انتہائی سخت انداز میں ذکر کیا۔ وہ اس موقع پراس 6 جنوری کو یاد کر رہے تھے جب ٹرمپ کےحامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تھا۔ یہ امریکی تاریخ کا ایسا واقعہ تھا جو اس سے پہلے امریکی جمہوری کلچر میں نہیں تھا البتہ دنیا کے دوسرے کئی جمہوریت پسند ملکوں میں اس طرح کی کارستانیاں دیکھنے میں آتی رہی ہیں۔

جوبائیڈن نے کہا 'وہ ہماری جمہوریت کو قربان کر کے اقتدار تک پہنچنا چاہتا ہے۔ سرگوشیوں کے غصے میں تبدیل ہوتے ہوئے جب چیخوں کے درمیان 2020 میں اس نے اس شخص کو مارا تھا جس نے اسے تھپڑ مارا تھا۔

وہ اپنے مخالفین کو کیڑے کہتا ہے امریکیوں کے خون کو زہر آلود قرار دیتا ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو نازی جرمنی میں استعمال کرتے تھے۔ یہ الفاظ یہ لہجہ اسی کی باز گشت ہے جو ہمیں امریکہ میں سنائی دے رہا ہے۔

جوبائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے لیے پنسلوینیا میں اس تاریخی اور علامتی مقام کا انتخاب کیا تھا جہاں تقریباً 250 سال قبل جارج واشنگٹن نے برطانوی راج کے خلاف لڑنے والی اپنی افواج کو جمع کیا تھا۔

اس طرح جوبائیڈن نے اپنے آپ کو امریکی محافظ کے طور پر پیش کیا ہے۔ امریکی اداروں کے محافظ کے طور پر اور کہا 'اگر ٹرمپ دوبارہ الیکشن جیت کر وائٹ ہاوس پہنچ گیا تو امریکی جمہوریت خطرے میں ہو گی۔'

امریکی صدر نے کہا 'ٹرمپ کا جمہوریت پر کیا گیا حملہ محض ماضی کی بات نہیں ہے، اس کے وعدے جو سامنے آرہے ہیں اس کے مستقبل کے ارادے بھی یہی ہیں۔ ' وہ بیمار ہے۔ '

صدر جوبائیدن نے ٹرمپ پر براہ راست اور سامنے سے حملہ اس وقت کیا ہے جب کئی ڈیموکریٹس نے بھی تنقید کی ہے اور اب مہم آہستہ آہستہ شروع ہو گئی ہے۔

اس وقت جب یہ مہم شروع ہوئی ہے جوبائیڈن مقبولیت کے جائزوں میں ٹرمپ سے کچھ پیچھے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک صدر کے طور پر حالیہ ادوار کے صدور میں جوبائیڈن بہت کم قبولیت کی سطح پر ہیں۔ ان کی صحت اور عالمی سطح پر اقدامات دونوں پر تنقید ہوتی ہے مگر بائیڈن نے اسی چیز کو اپنے مخالف کی طرف پھیر دیا ہے۔

صدر بائیڈن امریکی ووٹرز کو اس سلسلے میں بھی قائل نہیں کر پائے کہ ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے۔ جبکہ امیگریشن آج بھی امریکہ کے لیے ایک سر دردی ہے، اسی طرح یوکرین اور اسرائیلی جنگوں نے بھی عوام کو تقسیم کر رکھا ہے، حتیٰ کہ ڈیموکریٹس کے اندر بھی تقسیم ہے اور بائیڈن انتظامیہ میں بھی۔

لیکن شاید بائیڈن کے لیے ان کی عمر رسیدگی سب سے بڑی کمزوری بن رہی ہے۔ وہ امریکہ کے ضعیف ترین صدر ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی صحت اور توانائی متاثر ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے مخالف کو بیمار کہہ دیا ہے۔ حالانکہ اپنے کئی دوروں میں وہ خود اور ان کی زبان بھی لڑکھڑاتی رہی ہے۔

اپنی انتخابی مہم کے پہلے خطاب میں انہوں نے ووٹروں سے کہا 'میں آج یہ مقدس وعدہ کرتا ہوں کہ امریکی جمہوریت کا دفاع، تحفظ اور بچاؤ میری صدارت کا مرکزی مقصد ہے۔

انہوں نے ٹرمپ کے لیے بیمار کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا ' وہ سابق سپیکر نینسی پلوسی کے شوہر پر ہتھوڑے سے ہونے والے حملے پر قہقہے لگاتا رہا وہ 2020 کے الیکشن میں ہارا ہوا ہے۔'

جوبائیڈن نے غصے کے ساتھ ٹرمپ کی طرف سے شمالی کوریا کے 'کم جونگ ان' کو لکھے گئے 'محبت نامے' کا اور ٹرمپ کی طرف سے روسی صدرپیوتن کی تعریف کا بھی ذکر کیا۔

'جمہوریت کو خطرہ'

ٹرمپ نے بھی جوبائیڈن کی اس مہم کے بنیادی نکتے 'جمہوریت کے لیے خطرہ پر فوری رد عمل دیا ہے۔ ٹرمپ کے ترجمان سٹیون چیونگ نے کہا 'امریکی جمہوریت کے لیے اصل خطرہ جوبائیڈن ہیں۔ جو اپنی حکومت کو اپنے بڑے مخالف کے خلاف ہتھیاروں سے لیس کر رہی ہے، یہ الیکشن 2024 میں مداخلت ہے۔'

سابق صدر ٹرمپ انتخابی مہم پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا جوبائیڈن خوفزدہ ہے۔ اس کا ریکارڈ کمزوری، نا اہلی، کرپشن اور ناکامی ہیں۔

آئیووا میں اپنے حامیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا 'یہی وجہ ہے کہ جوبائیڈن نے ایک خوف پھیلانے والی اور تھکی ہوئی مہم کا آغاز کیا ہے۔ خیال رہے یہ پینسلوینیا کی تاریخ کی کمزور مہم ہے۔ ٹرمپ آج کل فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں