مشرق وسطیٰ

غزہ میں دس لاکھ سے زیادہ بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں: یونیسیف کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ، غذائی قلت اور بیماریوں کی شدت ایک مہلک وبا پیدا کر رہی ہے جس سے 11 لاکھ سے زائد بچوں کو خطرہ ہے۔

یونیسیف نے مزید کہا کہ غزہ میں صرف ایک ہفتے کے دوران بچوں میں اسہال کے کیسز میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، دو سال سے کم عمر کے 90 فیصد بچے اب "شدید غذائی قلت اور غربت" کا شکار ہیں۔

’یونیسیف‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ غزہ میں بچے "ایک ایسے ڈراؤنے خواب میں گرفتار ہیں جو ہر گذرتے دن کے ساتھ بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ غزہ کی پٹی میں بچے اور خاندان "لڑائی میں ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔ ان کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ پانی اور خوراک نہیں مل رہی اور وہ خطرناک بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو رہے ہیں‘‘۔

رسل نے تمام بچوں اور عام شہریوں کو تشدد سے محفوظ رہنے اور بنیادی خدمات اور سامان تک رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

تیزی سے بگڑتے حالات

یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 17دسمبر سے شروع ہونے والے صرف ایک ہفتے میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں اسہال کے کیسز 48,000 سے بڑھ کر 71,000 تک پہنچ گئے، جو کہ روزانہ اسہال کے 3,200 نئے کیسز کے برابر ہے۔

ادارے نے بتایا کہ اتنے کم وقت میں کیسز میں بڑا اضافہ "اس بات کی مضبوط نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بچوں کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے"۔ اس سے کم عمر بچوں میں ہر ماہ اسہال کے اوسطاً 2,000 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ یہ حالیہ اضافہ تقریباً 2,000 فیصد کے حیران کن اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

یونیسف نے اپنی رپورٹ میں 155,000 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے ساتھ ساتھ دو سال سے کم عمر کے 135,000 سے زائد بچوں کی غذائی ضروریات اور کمزوریوں کے پیش نظر خصوصی تشویش کا اظہار کیا۔

"دنیا کھل کر مدد نہیں کرتی‘‘

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے اطفال نے تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ دکانوں کو دوبارہ بھرنے کے قابل بنایا جا سکے اور انسانی وجوہات کی بنا پر فوری جنگ بندی کی جائے۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ "یونیسف غزہ کے بچوں کو زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جنہیں اس کی اشد ضرورت ہے لیکن ہمیں فوری طور پر بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے بہتر اور محفوظ رسائی کی ضرورت ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ "غزہ میں ہزاروں دوسرے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ دنیا کھڑے ہو کر نہیں دیکھ سکتی۔ بچوں پر تشدد اور مصائب کا سلسلہ بند ہونا چاہیے"۔

یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیل کی جنگ اپنے چوتھے مہینے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے مطاب اسرائیلی جنگ میں ہلاکتوں کی کل تعداد 22,600 تک پہنچ گئی ہے۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سات اکتوبر سے جاری جنگ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 57,910 تک پہنچ گئی ہے۔

غزہ کی پٹی کی آبادی جن کی تعداد 2.4 ملین ہے میں سے 85 فیصد سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ ایک تباہ کن انسانی بحران کا شکار ہے۔

بین الاقوامی اداروں کے مطابق ان میں سے زیادہ ترلوگ قحط کے دہانے پر ہیں۔ خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ہے اور شہریوں کو زندگی بچانے کے لیے بنیادی خوراک نہیں مل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں