فلپائن کا شعبہ سائنس حلال صنعت کی ترقی میں مدد کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مسلم فلپائنیوں کے قومی کمیشن نے فلپائن میں حلال صنعت کی پیداوار اور مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔

فلپائن کی تقریباً 120 ملین کی بنیادی طور پر کیتھولک آبادی میں سے صرف 10 ملین مسلمان ہیں لیکن ملک نے اپنی گھریلو حلال صنعت کو بہتر کرنے کے لیے بڑے اہداف مقرر کیے ہیں۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ سرمایہ کاری میں 230 بلین پیسو (4 بلین ڈالر) کا اضافہ اور آئندہ چار سے پانچ سالوں میں تقریباً 120,000 ملازمتیں پیدا کرے تاکہ عالمی حلال مارکیٹ سے فائدہ اٹھا سکے جس کی مالیت 7 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہونے کا تخمینہ ہے۔

شعبہ سائنس اور این سی ایم ایف کے درمیان تعاون ان کوششوں کا حصہ ہے جن میں محکمۂ تجارت اور محکمۂ زراعت جیسے دیگر سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔

این سی ایم ایف کے ترجمان یوسف مانڈو نے جمعہ کو عرب نیوز کو بتایا، "ترقی اور شمولیت کے لیے مشترکہ وژن سے مضبوط کردہ یہ تزویراتی اتحاد ملک میں حلال سرٹیفیکیشن اور ثقافتی تحفظ کے منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لیے کئی امید افزا فوائد سامنے لاتا ہے۔"

این سی ایم ایف اور ڈی او ایس ٹی نے جمعرات کو ڈی او ایس ٹی کی حلال تصدیقی لیبارٹریز کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔

حکومتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فلپائن کے پاس 1,835 اپنی حلال مصدقہ مصنوعات ہیں جبکہ کچھ پہلے ہی برآمد کی جاتی ہیں لیکن ملک کو عالمی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے اپنی حلال برانڈنگ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مانڈو کے لیے تصدیقی سہولیات کا قیام حلال پیداوار کی "سالمیت کو یقینی بنانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے"۔

انہوں نے کہا، "یہ تعاون حلال سرٹیفیکیشن کی تصدیق کے لیے درست اور قابلِ اعتماد طریقے فراہم کر کے فلپائن میں حلال صنعت کو نمایاں طور پر تقویت دے سکتا ہے۔ اس طرح صارفین کا اعتماد بڑھے گا اور حلال مصنوعات کی مارکیٹ کی ترقی آسان ہو گی۔"

"مشترکہ کوشش حلال سرٹیفیکیشن کے عمل میں سائنسی ترقی کے انضمام کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ ڈی او ایس ٹی کی طرف سے ٹیکنالوجی اور سائنسی مہارت کا استعمال جانچ کے طریقوں کو بہتر بنا سکتا ہے مثلاً کھانے اور مشروبات میں پورسین ڈی این اے اور الکحل کی سطح کا پتہ لگانا اور انہیں حلال ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔"

اس شراکت داری سے نہ صرف فلپائن کی حلال برآمدات بلکہ ملک کی اپنی مسلم اقلیت کو بھی فائدہ پہنچے گا جس سے اسلامی غذائی ترجیحات اور ثقافتی طریقوں کے احترام کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

مانڈو نے کہا، "ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد حلال سرٹیفیکیشن کا نظام ملکی اور بین الاقوامی ہر دو سطح پر حلال مصنوعات کی مارکیٹوں کو وسعت دے کر معاشی نمو میں کردار ادا کرتا ہے۔"

"یہ تعاون سائنسی ترقی کو ثقافتی اور مذہبی تحفظات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے، حلال صنعت کو فائدہ پہنچانے، مسلم کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور جامع ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرنے میں ایک قدم آگے بڑھنے کی نشاندہی کرتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں