’معذرت خواہ ہوں کہ ایک عورت آپ سے مخاطب ہے‘ ٹی وی میزبان فلسطینی رہ نما پر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کو سوشل میڈیا اور مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ایک تازہ واقعہ حال ہی میں ایک برطانوی ٹی وی چینل میں پیش آیا جہاں ایک خاتون ٹی وی میزبان نے مہمان فلسطینی رہ نما کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی جس پر اسے سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

برطانیہ کے TALKTV چینل پر جولیا ہارٹلی بریور کے رویے نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا ہے جب اس نے فلسطینی نیشنل انیشیٹو کے سیکرٹری جنرل مصطفیٰ برغوثی کے ساتھ ایک انٹرویو میں نمودار ہوئیں مگر انہوں نے مہمان کے ساتھ ترش اور تلخ لہجے میں بات کی۔ ٹی وی میزبان کی طرف سے اختیار کردہ رویے پر اسے سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

فلسطینی سیاست دان بیروت کے جنوبی مضافات میں حماس کے نائب رہ نما صالح العاروری کے قتل کے بعد بریور کے پروگرام میں مہمان کے طور پر آئے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکمرانی کی جمہوری بنیادوں کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔ اس پر ٹی وی میزبان کو غصہ آگیا۔

اس موقعے پر برغوثی نے کہا کہ ’’کیا آپ کو لگتا ہے کہ اسرائیل ایک جمہوری ریاست ہے؟‘‘ جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ’’ہاں میں جانتی ہوں کہ وہ ایک جمہوری ریاست ہے اور اس میں انتخابات ہوتے ہیں‘‘۔

برغوثی نے اسے روکا اور کہا کہ "نیتن یاہو نے جمہوریت کو تباہ کر دیا ہے۔ اس شخص کے خلاف اب عدالتوں میں تین یا چار مقدمات ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ آدمی جانتا ہے کہ اگر جنگ بند ہوئی تو وہ جیل جائے گا۔"

براڈکاسٹر نے مشتعل ہو کر فلسطینی سیاست دان کو روکا اور کہا "ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کی تاریخ کے بارے میں بات کر سکیں۔ وہ اسرائیل میں مقبول شخصیت نہیں ہیں۔ یں ان کے دفاع کے لیے یہاں نہیں آئی ہوں"۔

"آپ کو عورت سے بات کی عادت نہیں ہے"

اس نے کہا کہ "مصطفی آپ نے 7 اکتوبر کے بارے میں بات کی اور اسے ایک تاریخی تناظر میں رکھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ مجھے امید ہے کہ آپ اسے دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔"

اس نے مزید کہا کہ "آپ نے اپنی بات پانچ بار واضح کی، میرے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے"۔

برغوثی نے جواب دیا کہ "میں نہیں جانتا کہ آپ کے پاس کتنا وقت ہے"۔

اس پر ہارٹلی بریور نے چیخ کر کہا: "اوہ، میرے خدا مجھے اپنا جملہ مکمل کرنے دو، یار شاید تمہیں عورت سے بات کرنے کی عادت نہیں ہے"۔ اس نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتی، لیکن میں جملہ ختم کرنا چاہوں گی‘‘۔

جواب دینے کے لیے 10 سیکنڈ ہیں

برغوثی نے پھر کہا کہ "آپ سامعین کو گمراہ کر رہی ہیں جو آپ نے ابھی کہا کہ وہ سب غلط ہے۔"ابھی فلسطینی رہ نما کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کی میزبان پھر چیخ پڑی اور کہا کہ آپ کے پاس جواب دینے کے لیے 20 سیکنڈ ہیں۔

پھر اس نے کہا کہ آپ کے پاس 10 سیکنڈ کا وقت ہےکہ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں پر اپنا رد عمل دو۔ اس پر برغوثی نے کہا کہ "قبضہ ختم کرو اور دونوں قوموں کے لیے امن قائم ہونے دو"۔

ہارٹلی بریور نے پھر کہا کہ جواب "اچھا" تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں ایک عورت کے طور پر آپ سے بات کرنے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔"

یہ کلپ بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ سوشل میڈیا پر برطانوی نشریاتی ادارے پر شدید تنقید کی اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے براڈکاسٹر کے اس انداز کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی مہمان سے بات کرنے کے آداب نہیں رکھتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں