15 موساد ایجنٹوں کے خلاف ترکیہ میں مقدمہ چلے گا، آٹھ کو 'ڈی پورٹ' کرنے کا عدالتی حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکیہ کی عدالت نے اسرائیلی موساد کے ساتھ جڑے 15 مشتبہ افراد کی باضابطہ گرفتاری کا فیصلہ ہے۔ جبکہ 8 دیگر کو ' ڈی پورٹ ' کرنے کا حکم دیا ہے۔ مشتبہ افراد کے بارے میں تحقیقات چل رہی ہیں اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کا اسرائیلی خٖفیہ ادارے موساد کے ساتھ تعلق ہے۔

سرکاری ٹی وی ' ٹی آر ٹی' کے مطابق مشتبہ افراد مبینہ طور پر اسرائیلی موساد کے ساتھ مل کرترکیہ میں رہنے والے فلسطینیوں کی ٹارگیٹ کلنگ کرنا چاہتے تھے۔ ترکیہ کے حکام نے اسی ہفتے کے شروع میں 34 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔

نیز ترکیہ نے اسرائیل کو خبر دار کیا تھا کہ اگر اس نے فلسطین سے باہریا ترکیہ میں موجود فلسطینیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو نتائج سنگین ہوں گے۔

ترک پولیس نے آٹھ صوبوں میں مختلف مقامات پرچھاپے مار کر مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس سلسلے میں ' ایم آئی ٹی ' اور پراسیکیوٹر نے بھی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ عدالتی حکم پر اب باضابطہ گرفتاری کے بعد مقدمے کی شروعات ممکن ہو سکیں گی۔

تاہم ترکیہ کے سرکاری ٹی وی کی اس رپورٹ میں یہ تفصیلات نہیں دی ہیں۔ کہ زیر حراست لیے گئے 34 میں باقی 11 زیر حراست افراد کا مستقبل کیا ہو گا۔

واضح رہے ترکیہ حماس کو امریکہ اور مغربی ممالک کی طرح دہشت گرد گروپ نہیں سمجھتا بلکہ فلسطینیوں کے جائز حق آزادی کے لیے ایک موثر مزاحمتی تنظیم کے طور پر دیکھتا ہے۔

بیروت میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کی اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد اس امکان کو رد نہیں کیا جا رہا کہ اسرائیل اپنے اتحادیوں کی مدد سے خطے کے دوسرے ملکوں میں بھی اسی طرح کی کارروائیوں کی کوشش کر سکتا ہے اور موساد کے ایجنٹ ہر جگہ زیادہ متحرک ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں