اخلاقی جرم میں ملوث ہونے پر ایرانی خاتون 74 کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی عدالت نے ایک ایرانی خاتون کو سر عام اخلاقی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق خاتون نے مناسب لباس اور سرڈھنپنے کے سلسلے میں کوتاہی کی تھی اور اس سلسلے میں قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔

عدالت سے کوڑوں کی سزا کی مستحق قرار پانے والی خاتون رویا ہیشمتی نے عوامی مقامات پر ایسے لباس کا خیال نہیں رکھا جو ضروری تھا۔ قانون کے مطابق یہ انداز ذلت آمیز تھا۔

عدالتی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق اس جرم میں اسے 74 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے۔ واضح رہے ایران میں تمام خواتین کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی گردنوں اور سروں کو ڈھانپ کر باہر نکلیں۔ خواتین کو اس اخلاقی قانون کا 1979 کے ایرانی انقلاب کے فوری بعد سے پابند بنایا گیا ہے۔

ایران میں اخلاقی قانون کی خلاف ورزی پر کوڑے مارنے کی سزا ملنا غیرمعمولی بات ہے۔ سال 2022 کے آخر سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں ایرانی حکام نے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تیزی سے کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

یہ مظاہرے ستمبر 2022 میں دوران حراست 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔ مہسا امینی ایرانی کرد تھی جسے خواتین کے لیے اسلامی جمہوریہ کے ڈریس کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں