اسنیپ چیٹ پر نوجوانوں کے درمیان مہلک منشیات کے فروغ کی سہولت کاری کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسنیپ چیٹ ایپ کوامریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک بڑے قانونی چیلنج کا سامنا ہے۔ کیونکہ نوعمروں کے خاندانوں کے ایک گروپ جنہوں نے فینٹینیل کی زیادہ مقدار استعمال کی تھی نے ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فینٹینیل ایک مصنوعی اوپیئڈ ہیروئن سے کئی گنا زیادہ مہلک منشیات کے غیر قانونی سودے کی سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے۔

فینٹینیل بہت کم مقدار میں بھی مہلک ہے۔ اس کی پیداوارکم لاگت، سستی ہے اور اکثر دیگر مادوں کے بھیس میں فروخت کی جاتی ہے۔

یہ مقدمہ جو اسنیپ چیٹ پلیٹ فارم کو نوجوانوں میں منشیات کی زیادہ مقدار کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اس کے گہرے مضمرات ہو سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کس طرح کام کرتے ہیں اور انہیں کیسے جوابدہ ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

مقدمہ میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی کے اہلکار جانتے تھے کہ پلیٹ فارم کے ڈیزائن اور منفرد خصوصیات نے غیر قانونی ادویات کی فروخت کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنائی ہے۔

سنیپ چیٹ جیسی ٹیک کمپنیاں روایتی طور پر کمیونیکیشن ڈیسنسی ایکٹ کے سیکشن 230 کے تحت محفوظ سمجھی جاتی رہی ہیں۔

یہ قانونی استثنیٰ جدید انٹرنیٹ کی ترقی کا سنگ بنیاد رہا ہے، جس سے پلیٹ فارمز کو صارف کے تیار کردہ مواد سے متعلق قانونی چارہ جوئی کے مستقل خطرے کے بغیر ترقی کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

لارنس ریو کا مقدمے کو آگے بڑھانے کی اجازت دینے کا فیصلہ ممکنہ تبدیلی کا اشارہ ہے۔

یہ مقدمہ ایک بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے کیونکہ عوامی تحفظ اور بہبود میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کردار کی جانچ پڑتال بڑھ رہی ہے۔

اسنیپ چیٹ، گوگل، میٹا اور ٹک ٹاک کو فی الحال ایک مقدمہ کا سامنا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے نوجوانوں میں ذہنی صحت کے بحران میں حصہ ڈالا ہے۔

یہ مسائل اس بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو اجاگر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کس طرح صارفین پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں