فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینیوں اور غزہ میں جنگ بندی کی حمایت میں مظاہرہ، برطانوی پارلیمنٹ کے راستے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں جاری ہلاکتیں روکنے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والوں کا احتجاج روکنے میں لندن پولیس کئی جھڑپوں کے بعد کامیاب ہو گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک کر منتشر کر دیا۔

پولیس نے پرامن مظاہرین کو انتباہ کیا تھا کہ جن مظاہرین نے واپس جانے کا پولیس کا حکم نہ مانا تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ مظاہرین کی وجہ سے پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستے بلاک ہوگئے۔

مظاہرین ارکان پارلیمنٹ سے غزہ جنگ بندی کے لیے ضمیر کی آواز بلند کرنے کا مطالبہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پولیس نے مظاہرین کو ویسٹ منسٹر پل سے آگے نہیں جانے دیا۔ مظاہرین نے اس پل پر فلسطینیوں اور غزہ جنگ بندی کے حق میں بینر آویزاں کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ پولیس نے یہ بھی روک دیا۔

مغربی ملکوں کے دوسرے شہروں کی طرح لندن میں بھی بعض اوقات بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان دنوں عام طور پر یہ مظاہرے غزہ میں فوری جنگ بندی کے حق میں فلسطینی عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے خلاف ہوتے ہیں۔

واضح رہے سات اکتوبر سے شروع ہوئی اس جنگ میں صرف غزہ میں اب تک 22722 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ زخمیوں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد ان ہلاکتوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے مغربی ملکوں آزادی اور امن پسند شہری اس جنگ کی فوری بندش کے لیے سڑکوں پر نکل کر اپنی حکومتوں اور پالیسی سازوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس خاطر ہفتے کے روز لندن میں ایک بار پھر مظاہرین جمع تھے۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لندن پولیس ان مظاہرین کا راستہ بلاک کر دیا۔ تاکہ مظاہرین ویسٹ منسٹر پل تک نہ جا سکیں جہاں وہ رائٹرز کے نمائندے کے مطابق بینر لہانے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ لیکن پولیس کی کامیاب حکمت عملی سے یہ مظاہرین ایسا نہ کر سکے۔

پولیس کا موقف تھا کہ اس کا مظاہرہ روکنے کا حکم قانون کے مطابق اس لیے جو لو گ اس حکم کے باوجود مظاہرے کا حصہ رہیں گے انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے تین بجے سہہ پہر تک مظاہرین نے منتشر ہونا شروع کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ مظاہرہ پولیس کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں