فلسطین اسرائیل تنازع

اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں جنوبی افریقہ کا اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بین الاقوامی عدالتِ انصاف اس ہفتے جنوبی افریقہ کی طرف سے دائرکردہ ایک مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں غزہ جنگ میں اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اس کی فوجی مہم کی ہنگامی معطلی کے درخواست کی گئی ہے۔

آئی سی جے (انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس) کیا ہے؟

آئی سی جے جسے ورلڈ کورٹ (عالمی عدالت) بھی کہا جاتا ہے، اقوامِ متحدہ کا سب سے بڑا قانونی ادارہ ہے جو 1945 میں ریاستوں کے مابین تنازعات سے نمٹنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ اس کو معاہدے پر مبنی بین الاقوامی فوجداری عدالت سے گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے جو افراد کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات سے نمٹتی ہے اور یہ بھی ہیگ میں ہے۔

آئی سی جے کا 15 ججوں کا پینل – جس میں اسرائیل کے معاملے میں ہر فریق کے لیے ایک اضافی جج بڑھا دیا جائے گا - سرحدی تنازعات اور ریاستوں کے ذریعہ لائے جانے والے مقدمات سنتا ہے جن میں دوسروں پر اقوامِ متحدہ کے معاہدے کی ذمہ داریوں کو توڑنے کا الزام ہو۔

جنوبی افریقہ اور اسرائیل دونوں 1948 کے نسل کشی کے کنونشن کے دستخط کنندہ ہیں جو آئی سی جے کو معاہدے پر تنازعات کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

نسل کشی کے کنونشن پر دستخط کرنے والی تمام ریاستیں نہ صرف نسل کشی کا ارتکاب نہ کرنے بلکہ اسے روکنے اور اس پر سزا دینے کے لئے بھی پابند ہیں۔ اس معاہدے نے نسل کشی کی وضاحت "مکمل یا جزوی طور پر قومی، فرقہ وارانہ، نسلی یا مذہبی گروہ کو تباہ کرنے کے ارادے سے کیے گئے اقدامات" کے طور پر کی ہے۔

جنوبی افریقہ کا مقدمہ کیا ہے؟

84 صفحات پر مشتمل اپنی درخواست میں جنوبی افریقہ نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو ہلاک کر کے، انھیں شدید ذہنی و جسمانی نقصان پہنچا کر اور زندگی میں "انہیں جسمانی طور پر تباہ کر دینے والے" حالات پیدا کرکے اسرائیل ان کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے "یہ افعال تمام تر اسرائیل سے منسوب ہیں جو نسل کشی کو روکنے میں ناکام رہا ہے اور نسل کشی کے کنونشن کی واضح خلاف ورزی کر کے نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے،" اور مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے عہدیداروں میں نسل کشی کی ترغیب کو بھی روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اسرائیل کا جواب کیا ہے؟

اسرائیل نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ایک حکومتی ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ جنوبی افریقہ یہودیوں کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے جس کا مقصد یہودیوں سے مہلک نفرت پیدا کرنا ہے۔

اسرائیل نے کہا کہ وہ اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے اگلے ہفتے عدالت میں ہوگا۔

سماعتوں میں کیا ہوگا؟

یہ سماعت 11 اور 12 جنوری کو ہوگی۔

کسی ایسے مقدمے میں ہنگامی اقدامات کی درخواست پہلا قدم ہے جسے مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔ عارضی اقدامات کا مطلب ایک قسم کا روک تھام کا حکم ہو گا تاکہ کسی تنازعہ کو خراب ہونے سے بچایا جاسکے جبکہ عدالت اس دوران پورے معاملے پر نظر ڈالتی ہے۔

آئی سی جے کے جج اکثر ایسے اقدامات کی اجازت دے دیتے ہیں جو عموماً ایسا حکم صادر کرتے ہیں کہ ایک ریاست ایسی کارروائی سے باز رہے جو قانونی تنازعہ کو بڑھا سکے۔

عارضی اقدامات کے لیے عدالت کو صرف یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا بادی النظر میں یہ اس کے دائرۂ اختیار میں ہو اور شکایت کردہ افعال نسل کشی کے معاہدے کے دائرۂ کار میں آتے ہوں۔ ضروری نہیں کہ عدالت کے دیئے گئے کوئی بھی احکامات کی شکایت کنندہ نے درخواست کی ہو۔

جنوبی افریقہ نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی کارروائیاں معطل کرنے کا حکم دے تاکہ نسل کشی کی کوئی بھی کارروائیاں بند ہوں یا وہ نسل کشی روکنے کے لیے معقول اقدامات کرے اور اس طرح کے اقدامات کے بارے میں آئی سی جے کو باقاعدہ رپورٹس جاری کرے۔

آئی سی جے کے احکامات حتمی اور اپیل کے بغیر ہیں لیکن اس کے پاس ان کے نفاذ کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اسرائیل کے خلاف فیصلے سے اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور قانونی نظیر قائم ہوسکتی ہے۔

حتمی فیصلہ آنے میں کتنا وقت صرف ہوگا؟

اگر عدالت کو پتا چلے کہ اس کا بادی النظر کا دائرہ اختیار ہے تو معاملہ ہیگ میں واقع زیبائشی پیس پیلس میں آگے بڑھے گا - چاہے جج ہنگامی اقدامات کے خلاف ہی فیصلہ کریں۔

اس کے بعد اسرائیل کو یہ بحث کرنے کا ایک اور موقع ملے گا کہ عدالت کے پاس جنوبی افریقہ کے دعوے کو دیکھنے اور نام نہاد ابتدائی اعتراض دائر کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے - جو صرف دائرہ اختیار کے امور کے لیے کام کر سکتی ہے۔ اگر عدالت اس اعتراض کو مسترد کرتی ہے تو جج بالآخر مزید عوامی سماعتوں میں اس کیس کو دیکھ سکتے ہیں۔

ابتدائی دعوے اور اس کی خوبیوں کی بنیاد پر کیس کی اصل سماعت کے درمیان کئی سال گذر جانا غیر معمولی بات نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں