ترکیہ میں موساد سیل کے اندر 3 مصریوں کی موجودگی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ’موساد‘ کے مبینہ سہولت کاروں اور ایجنٹوں کی گرفتاری کےبعد نئی معلومات میں پتا چلا ہے کہ اسرائیلی ’موساد سیل‘ کے اندر 3 مصریوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جنہیں حال ہی میں ترکی میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ استنبول میں مقیم عربوں اور غیر ملکیوں کی جاسوسی کر رہے تھے۔

ترک میڈیا اور پلیٹ فارمز کے مطابق ملزمان میں 3 مصری، 2 فلسطینی، 3 ترک اور 2 تونسی شامل ہیں۔ ان میں میاں بیوی بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک رئیل اسٹیٹ آفس کا انچارج تھا اور اس نے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس نے بتایا کہ وہ ترکیہ میں موجود فلسطینیوں اور عربوں کی معلومات فراہم کرتے رہے اور ان کی رہائش گاہوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہے۔

معلومات کے مطابق کیس کے کچھ مشتبہ افراد کو اس بات کی تصدیق کے بعد رہا کر دیا گیا کہ ان کے اور سیل ممبران کے درمیان ان کے فرائض کو جانے بغیر رابطہ ہوا تھا، جب کہ دیگر کئی کو ان کی رہائشی حیثیت کی وجہ سے ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

ترک "TR99" پلیٹ فارم نے انکشاف کیا کہ زیر حراست افراد میں سے 7 کو شمالی شام بھیج دیا گیا ہے جن میں سفید داڑھی والا بزرگ شخص بھی شامل ہے۔ اس کی تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر پھیل گئی، جہاں اسے رقم وصول کرنے کے الزام میں اس کے بیٹے کے ساتھ ملک بدر کر دیا گیا۔ انہیں داعش کے لوگوں سے رقم وصول کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک نقاب پوش خاتون کو بھی رہا کردیا گیا جس کی گرفتاری کے بعد مسکراتے ہوئے لی گئی تصویروائرل ہوگئی تھی۔

ترکی میں موساد سیل گرفتار
ترکی میں موساد سیل گرفتار

اخوان سے تعلق نہیں

مزید برآں العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنےوالی معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مقدمے میں گرفتار کیے گئے مصری باشندے ’ح، الف ح ، ع اور ع الف‘ اخوان المسلمون کے رکن نہیں بلکہ دوسرے گروپوں سے منسلک ہیں۔ سیل کے اراکین نے سربیا میں رہنے والے ایک دوسرے شخص سے وسیع تربیت حاصل کی تھی۔ انہیں موبائل اور ای میل ہیک کرنے کی تربیت فراہم کی گئی تھی۔

گذشتہ جمعرات کو ترک میڈیا نے انکشاف کیا کہ حکام سیل کے ایجنٹوں کو ان کے بارے میں تحقیقات شروع کرنے سے پہلے طبی معائنے کے مرکز میں لے گئے۔ موساد سیل کے اراکین نے انسانی وجوہات کی بنا پر ترکیہ میں مقیم غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر کام شروع کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان کا استنبول کے ضلع بیرام پاشا کے سرکاری ہسپتال میں سکیورٹی کی نگرانی میں پتا چلا گیا۔ انہیں گرفتار کرنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے استنبول کے پولیس ہیڈ کوارٹر واپس کردیا۔

جاسوسی، تخریب کاری اور قتل

موساد سیل کے ارکان کی جانب سے ترکیہ کے اندر غیر ملکی شہریوں کی جاسوسی، بم دھماکے، تخریب کاری اور قتل وغارت گری، کمپیوٹرز، فونز اور وائی فائی نیٹ ورکس کو ہیک کرنا شامل ہیں۔ ایجنٹوں کو موساد سے بھرتی کرنے سے پہلے ٹیسٹ سے گذرنا پڑتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے وہ آیا وہ اسرائیل کے وفادار ہیں یا نہیں۔

گذشتہ منگل کو ترک پبلک پراسیکیوٹر نے ترکیہ میں غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے موساد کی سازش میں ملوث 46 مشتبہ افراد کی گرفتاری کا حکم دیا تھا، جب کہ ان میں سے 33 کو گرفتار کر لیا گیا تھا، اور فی الحال فرار ہونے والے 13 دیگر کی تلاش جاری ہے۔

گرفتاریاں اور چھاپے ترکیہ کے 8 علاقوں اور صوبوں میں ہوئے جن کا مرکز استنبول ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں