فضل الرحمان کی افغان نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے کابل میں ملاقات

پاکستان کی دینی سیاسی جماعت کے سربراہ کا دورہ افغانستان دونوں ملکوں کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا: افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اہم دینی سیاسی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا دورہ افغانستان پاکستان اور افغان عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

اتوار کو رات گئے ایکس پر پوسٹ کیے جانے والے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے وفد کا دورہ افغانستان سلامتی اور معیشت کے اعتبار سے دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند رہے گا۔‘

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان افغانستان میں حکمران طالبان قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے اتوار کے روز اسلام آباد سے کابل پہنچے تھے؛ جہاں انہوں نے نائب وزیراعظم افغانستان مولوی عبدالکبیر سے ملاقات کی۔

ان کی جماعت جے یو آئی (ف) کے میڈیا سیل کی جانب سے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کابل میں طالبان کے نائب وزیراعظم مولانا عبدالکبیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر افغان وزیر خارجہ مولوی امیر متقی ، مولوی عبد الطیف منصور ودیگر طالبان رہنما بھی موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ ان کی جماعت کے رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلی سطحی وفد بھی کابل گیا ہے۔ بیان کے مطابق وہ یہ دوراہ افغان طالبان کی دعوت پر کر رہے ہیں اور اس کا مقصد علاقائی اور سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے، جب پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کی وجہ سے کابل اور اسلام آباد کے مابین تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ ان دہشت گردانہ حملوں میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

پاکستانی سلامتی کے اداروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام افغان طالبان سے افغانستان میں موجود نے ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے خاتمے اور اس کے رہنماؤں کی پاکستان حوالگی کے مطالبات کرتے آئے ہیں۔

پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے نومبر کے مہینے میں کہا تھا کہ اگست 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی میں 60 فیصد اور خودکش دھماکوں میں 500 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یاد رپے کہ مولانا فضل الرحمان کے دورے سے چند روز قبل ہی افغانستان کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ افغان وفد میں افغان وزارت دفاع، اطلاعات اور انٹیلی جنس حکام شامل تھے جس نے وفد پاکستانی حکام سے دو طرفہ مذاکرات کیے۔ وفد کی قیادت سینئر طالبان رہنما اور گورنر قندھار ملا شیرین اخوند نے کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں