کابل کے بس دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی حصے میں ہونے والے بس دھماکے کے حوالے سے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے افراد کی تعداد دو سے بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے۔

پولیس ترجمان خالد زردان نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ ہفتے کی شام ہونے والے بس دھماکے میں دو ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے۔ یہ حادثہ دشت بارچی کے علاقے میں ہوا تھا۔ اس علاقے کو شیعہ آبادی کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔

تاہم اتوار کو اس بس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سے بڑھ کر پانچ ہو گئی ۔ زخمی افراد کی حالت اب بہتر ہے۔

حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ بس میں دھماکہ بم نصب کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ لیکن پولیس ابھی تحقیقات کر رہی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'اوناما' کے مطابق کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 25 ہے۔ ' اوناما' نے اس طرح کے ٹارگیٹڈ واقعات کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے بس میں دھماکے کے محض چند گھنٹے بعد داعش نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ اس علاقے میں داعش کی طرف سے تازہ ترین دھماکہ ہے۔ ماہ نومبر میں کم از کم سات افراد ایک بس دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے افغانستان میں خود کش دھماکوں میں کمی ہو چکی ہے۔ لیکن عسکری گروپ اب بھی موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں