ہڑتال کی وجہ سے لندن کی زیر زمین ٹریفک میں بڑے خلل کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لندن میں ملازمین کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کےلیے جاری ہڑتال کی وجہ سے ٹریفک کے نظام میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امکان ہے کہ اجرت میں اضافے کے مطالبے کے لیے اتوار سے جمعرات تک ہونے والی ہڑتال کی وجہ سے لندن میں زیر زمین ٹرینوں کی آمدورفت بہت زیادہ متاثر یا مکمل طور پر معطل ہوسکتی ہے۔

اتوار کی شام سے شروع ہونے والی سب وے ٹرین کی ٹریفک معمول سے پہلے رک جائے گی، جبکہ برطانوی دارالحکومت میں نقل و حمل کے نیٹ ورک کے لیے ذمہ دار ٹی ایف ایل اتھارٹی نے سفارش کی ہے کہ مسافر اپنے سفر مقامی وقت اور4:30 سے پہلے ختم کریں۔

توقعات سے پتہ چلتا ہے کہ "شدید خلل" پیر سے جمعرات تک ٹرینوں کو متاثر کرے گا۔ چلنے والی ٹرینوں کی تعداد میں نمایاں کمی یا ان کے مکمل بند ہونے کا خدشہ ہے جبکہ جمعہ کی سہ پہر کو صورتحال معمول پر آنے کی امید ہے۔

میٹرو لندن
میٹرو لندن

RMT یونین (نیشنل یونین آف ریلوے، میری ٹائم اینڈ ٹرانسپورٹ ورکرز) نے اجرتوں میں اضافے کے مطالبے کے لیے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یونین کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "TFL لندن کے زیر زمین ملازمین کو قابل قبول پیشکش کی تجویز پیش کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا"۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کا فیصلہ مجبورا کیا گیا اور اسے ہلکا نہ لیا جائے‘‘۔

یونین نے کہا کہ اس کے تقریباً 10,000 اراکین ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں