دو ریاستی حل کےبغیر امن کا حصول ناممکن،حماس ہتھیار پھینک دے: جرمنی

جرمنی یورپی یونین کے فعال رکن کی حیثیت سے دو ریاستی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے:مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیربوک نے منگل کو قاہرہ کے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازع فلسطین کا دو ریاستی حل ناگزیر ہے، اس کے بغیر امن کا حصول ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی اور مصر اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارہ فلسطینیوں کا ہے۔ دونوں ممالک فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور انہیں فلسطین سے نکال باہر کرنے کے خلاف ہیں۔

حماس کو ہتھیارپھینک دینے چاہئیں

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے مصائب جاری نہیں رہ سکتے۔ غزہ میں امن لانا ہوگا۔ جرمن وزیرخارجہ نے غزہ کی حکمران جماعت حماس پر زور دیا کہ وہ ہتھیار پھینک دے۔ انہوں نے غزہ کی آبادی تک امداد پہنچانے کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

"فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات پر زور"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ کے بعد غزہ میں سکیورٹی کو منظم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کو مستقبل میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس موقعے پر مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے اس بات پر زور دیا کہ جرمنی یورپی یونین کے فریم ورک کے اندرکلیدی کردار ادا کرتا ہے جس میں دو ریاستی حل کو فعال کرنے اور خطے میں استحکام اور امن کے حصول کے لیے مناسب فریم ورک قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ہو سکتا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کی سرگرمیوں اور انتقامی حملوں کی روک تھام پر زور دیا۔

تنازعات پھیلنے کی وارننگ

مصری وزیرخارجہ سامح شکری نے سلامتی اوراستحکام کے قیام کے لیے قاہرہ اور برلن کے درمیان تعاون موجود ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی اور استحکام کے حصول اور غزہ میں تنازع کا دائرہ وسیع نہ کرنے کے لیے اتفاق رائے ہے۔

حماس کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 23,000 ہزار سے زائد فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں