مشرق وسطیٰ

نیویارک: غزہ میں جنگ بندی کے لیے شہریوں کے مظاہرے، سڑکیں اور سرنگیں بلاک کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطین کے حامی احتجاجی مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی اور قتل عام بند کرنے کے نعروں کے ساتھ اس وقت نیو یارک مں سڑکوں اور زیر زمین راستوں کو بند کر دیا جب امریکی وزیر خارجہ مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور غزہ کی جنگ کو غزہ سے باہر تک پھیلنے سے روکنے کے لیے علاقے کے قائدین سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

یہ مظاہرین پیر کے روز نیویارک کی سڑکوں پر نکلے اورتین ماہ سے جاری اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق درجنوں مظاہرین سڑک پر بیٹھ گئے اور نعرے لگاتے رہے، ان مظاہرین کی وجہ سے بروک لین، مین ہٹن ، اور ولیمزبرگ پل سے مشرقی دریا تک ٹریفک رک گئی۔

اسی طرح غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے کیے گئے اس مظاہرے کی وجہ سے ہالینڈ سرنگ بھی بند کر دی گئی۔ یہ سرنگ نیویارک سٹی اور نیو جرسی کو باہم ملاتی ہے۔

نیو یارک کی پورٹ اتھارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر عوام کو بتایا کہ نیو جرسی کے لیے راستوں کو پولیس سے متعلق سرگرمیوں کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے یہ پورٹ اتھارٹی ہالینڈ سرنگ کا کنٹرول رکھتی ہے اور اس کی ٹریفک کے نظام کو بھی دیکھتی ہے۔

ایک ویڈیو جو مظاہرین نے سوشل میڈیا پرپوسٹ کی ہے اس میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین نعرے لگاتے ہوئے کہہ رہے ہیں ' نیویار ک پولیس، سفید فام نسل پرست (کے کے کے ) اور اسرائیلی فوج سب ایک جیسے ہیں۔ '

ہالینڈ سرنگ پر مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ' غزہ کا محاصرہ ختم کرو، اب فائربندی کرو اور قبضہ ختم کرو۔' ایسے ہی مظاہرین بورکلین پل پر بھی موجود تھے۔

ان مظاہرین کو فلسطینی نوجوانوں کی تنظیم فلسطینی یوتھ موومنٹ کے علاوہ 'جیوش وائس فار پیس، ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ نامی گروپوں نے منظم کیا تھا۔ نیو یارک پولیس نے مظاہرین کو بروک لین پل، مین ہٹن کے داخلی راستوں کر گرفتار بھی کیا ہے۔

ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے مظاہرین میں شامل ایک خاتون جسے پولیس گرفتار کر رہی تھی اس کا کہنا تھا ' غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت ہے، میں اپنے جسم کو اس راستے پر ختم کرنے کو تیار ہوں' نیویارک پولیس کے افسر نے اس کے بازو اس کی کمر کی طرف لے جا کر باندھ دیے تھے اور اسے لے جارہا تھا۔

واضح رہے امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن مشرق وسطیٰ کے تین ماہ کے دوران اپنے چوتھے دورے پر ہیں اور ان کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں بمباری کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ اب تک صرف غزہ میں 23000 سے زیادہ فلسطینی تین ماہ کے دوران ہلاک کیے گئے ہیں۔

ان ہلاک کیے گئے افراد میں بچوں اور عورتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس قتل عام کے خلاف نیویارک میں مظاہرین کہہ رہے تھے اسرائیلی فوج ، کے کے کے اور نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ ایک ہی جیسے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں