فرانس کی تاریخ کے سب سے کم عمر ’مغرور‘ وزیراعظم کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کی جانب سے منگل کے روز وزیر اعظم مقرر کیے گئے گیبریل اٹل فرانسیسی صدر کے کیمپ میں سب سے زیادہ مقبول شخصیت کے طور پر حیران کن عروج حاصل کرتے ہوئےفرانسیسی جمہوریہ کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم بن گئے۔

چونتیس سالہ گیبریل اٹل کو ہفتہ وار ’اخبار لی پوائنٹ‘ نے "نیا میکروں" قرار دیا ہے۔وہ خود کو ایلزبتھ بورن کے جانشین کے طور پر حکومت کے سربراہ کے طور پر منتخب کرانےمیں کامیاب ہو گئے۔ دریں اثنا ریڈیکل لیفٹ بلاک کے رہ نما میتھلڈ بنوٹ نے انہیں "میکروں جونیئر، تکبر اور حقارت پر مبنی سوچ" قرار دیا ہے۔

فرانس کی نصف آبادی کے لیے اٹل حکومت اور صدارتی اکثریت میں سب سے زیادہ مقبول شخصیت ہیں۔

ان کی تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب میکروں کو اپنی دوسری پانچ سالہ مدت میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود انتہائی دائیں بازو کے عروج کا سامنا کرنے والے فرانسیسی صدر اپنی دوسری مدت کار کو تحریک دینے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

تکلیف دہ اور متنازعہ پنشن اصلاحات کو اپنانے اور حال ہی میں قوم پرست حق کی حمایت یافتہ ایک امیگریشن قانون جس نے صدارتی اکثریت کو توڑا ہے نے میکروں کی سیاست پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

گیبریل اٹل کا تعلق ڈومینک اسٹراس کے نوجوان حامیوں کی تحریک سے ہے، جو نیویارک میں 2011ء میں جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتاری کے بعد ان کے زوال سے قبل بائیں بازو کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

اٹل ایمینوئل میکرون میں شامل ہونے والے پہلے سوشلسٹوں میں سے ایک ہیں جب انہوں نے 2016ء میں اپنی پارٹی "En Marche!" کی بنیاد رکھی۔

"سیاسی احساس"

سنہ2017ء میں میکروں کی فتح کے بعد ایک فلم پروڈیوسر کا بیٹا اٹل پیرس کے ایلیٹ الساتیان اسکول سے فراغت کے بعد پیرس کے مضافاتی علاقے Hauts-de-Seine کے دائیں بازو کے گڑھ میں رکن پارلیمنٹ کے طور پر منتخب ہوا۔

سیاست میں آنے نے اس کے لیے حکومت میں داخل ہونے کا ایک چھوٹا سا دروازہ کھول دیا جب انھیں سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے نوجوانوں کا عہدہ سونپا گیا۔

وہ اپنی "کام کرنے کی اہلیت" اور اپنی "سیاسی سوجھ بوجھ" سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔ انھوں نے سیاست اور حکومت میں اپنی بالغ نظری کےعزائم کا مظاہرہ کیا۔

اس کا کہنا ہے کہ ’’اگر میں نے اپنے آپ کو کچھ کام کرنے سے روک دیا ہوتا تو شاید میں اس جگہ نہ ہوتا جہاں میں آج ہوں"۔

جولائی 2020ء میں اس وقت کے وزیر اعظم جین کاسٹیکس نے پوچھا کہ "کیا ہمیں نوجوان گیبریل کو دوبارہ مصروف رکھنے کے لیے کچھ ملا ہے؟"

ابتدا میں اٹل نے حکومت کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دیں اور کووڈ بحران کے دوران اس کام کو مہارت سے انجام دیا۔ اس نے خود کو حکومت کے ان چند ارکان میں سے ایک کے طور پر متعارف کرایا جو رائے عامہ کے لیے مشہور ہوئے۔

"مغرور"

سنہ 2022ء میں اپنے دوبارہ انتخاب کے بعد عمانویل میکروں نے انہیں بجٹ پورٹ فولیو کی پیشکش کی کیونکہ میڈیا کے ساتھ ان کی آسانی نے انہیں غیر مقبول پنشن اصلاحات کا دفاع کرنے کے لیے فرنٹ لائنز پر بھیجے جانے والے نایاب وزراء میں سے ایک بننے کی اجازت دی۔

"علم کا جھٹکا" اور "حقوق و فرائض کے مکتب" کے بارے میں ان کے بیانات اور یونیفارم نافذ کرنے اور اسکول میں عبایا پر پابندی کے حق میں موقف اختیار کرنےکی وجہ سے نوجوان وزیرکے خلاف ہر جگہ انہیں میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی۔

چند ہفتے پہلے ایک حکومتی مشیر نے اس "طاقتور آدمی" کے لیے اس جوش و خروش پر حیرت کا اظہار کیا تھا، جو اپنے حامیوں میں بھی اپنی "اپنی برتری کے گھمنڈ" کی وجہ سے تضحیک کا باعث بنتا ہے۔

اٹل میکروں کے قریبی ساتھی ہیں جو کوویڈ 19 وبائی امراض کے دوران حکومتی ترجمان کے طور پر ملک میں نام بنا چکے ہیں۔ وہ سبکدوش ہونے والی وزیر اعظم الزبتھ بورن کی جگہ لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں