اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے کی سماعت، ہیگ میں فلسطینی حامیوں کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے حامی مظاہرین نے جمعرات کو دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے مظاہرے کا انعقاد کیا۔ یہ مظاہرہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے کہ جب غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم سے متعلق مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔

جنوبی افریقہ نے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ وہ 1948 کے انسداد نسل کشی کے کنونشن کی روشنی میں اسرائیل کے اقدامات کو زیر بحث لایا جائے۔

آج بروز جمعرات سے شروع ہونے والا مقدمہ کئی برسوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

کنونشن ایسے عمل مثلاً قتل کو نسل کشی قرار دیتا ہے جس کا "ارتکاب کسی قومی، نسلی، ثقافتی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کیا گیا ہو"۔

جنوبی افریقہ کی 84 صفحات پر مشتمل درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات "نسل کشی پر مبنی ہیں کیونکہ ان کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنا ہے۔"

7 اکتوبر کو غزہ سے جنوبی اسرائیل پر حماس کا حملہ اس جنگ کا سبب بنا اور اس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہو گئے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنا لیا گیا۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے فضائی، زمینی اور سمندری حملے میں 23 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں