بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے زور دے کر خبردار کیا ہےکہ حوثیوں کے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے راستوں پر مسلسل حملوں کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کے ملک نے ایران پر واضح کیا ہے کہ وہ حوثیوں کو مدد فراہم کرنا بند کرے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ "ہم نے بھی بارہا دوسرے ممالک کی طرح ایران پر واضح کرنے کی کوشش کی ہےکہ وہ حوثیوں کو جو مدد فراہم کرتا ہے، وہ اسے بند کرنا ہوگی‘۔

امریکی جہاز پر حوثیوں کا حملے کا دعوی

یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں ایک امریکی بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعلان کیا تھا کہ اس نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کا 27 واں حملہ پسپا کیا ہے۔

آج بدھ کو یمنی حوثی گروپ نے بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ فوجی آپریشن کے نفاذ کی تصدیق کی جس نے ایک امریکی جہاز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بحری جہاز اسرائیل کو مدد فراہم کر رہا تھا۔

حوثی ملیشیا کے عسکری ترجمان یحییٰ ساری کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ آپریشن بحیرہ احمر میں ان کی افواج کو حالیہ امریکی حملوں کے "ابتدائی ردعمل" کے طور پر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد غزہ میں جاری اسرائیلی حملے کو روکنے کے لیے اسرائیلی مدد کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانا اور اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

’یو ایس‘ سینٹرل کمانڈ نے آج بدھ کی صبح کہا تھا کہ حوثیوں نے منگل کی شام بین الاقوامی شپنگ لین پر ایک بڑا حملہ کیا۔ انہوں نے اس حملے کو "پیچیدہ" قرار دیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ اس کے جہاز نے "گارڈین آف پراسپرٹی" اتحادی افواج کی مدد سے حوثی بحری حملے کا مقابلہ کرنے میں ایک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کے علاوہ 18 ڈرونز اور دو اینٹی شپ کروز میزائلوں کو مار گرایا۔

انہوں نے اس حملے کو پیچیدہ اور بڑا بھی قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں