جنوبی افریقہ کانسل کشی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ،اسرائیل کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائرہ کردہ نسل کشی کے مقدمے کی سماعت بین الاقوامی عدالت انصاف میں آج سے شروع ہو رہی ہے۔ مگر عدالت سے باہر اسرائیل نے سخت رد عمل ظاہر کر دیا ہے۔

اسرائیل نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس بارے میں جواب دینے سے پہلے ہی اپنے سخت رد عمل سے جنوبی افریقہ کے خلاف الزمات کی ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے۔ جس کا جواب جنوبی افریقہ نے بھی دیا ہے۔

واضح رہے جنوبی افریقہ نے غزہ میں بلا امتیاز اور اندھی بمباری کرنے پر اسرائیل کو فلسطینی عوام کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے دسمبر کے اواخر میں درخواست دائر کی ہے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسرائیل نے اس حقیقت سے انکار کیا ہے اور الٹا خود کو مظلوم بنا کر پیش کر رہا ہے۔

جنوبی افریقہ نے 84 صفحات پر مبنی درخواست دائر کی ہے۔ جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی سے فوری روکے۔ تب سے دونوں ملکوں کے درمیان گرما گرمی کا ماحول بھی سامنے آنے لگا ہے۔

جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی پر ہم نے بطور ملک بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا ہے۔

'ہم وہ لوگ ہیں جو ایک مرتبہ نسل کشی کی تکلیف سے گزر چکے ہیں۔ ہم ایسی قوم ہیں جو قبضے اور امتیاز کی تکلیفوں سے بھی گزر چکے ہیں۔ حتیٰ کہ ریاستی جبر کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔ ہمیں یہ یقین ہے کہ ہم تاریخ کے دائیں طرف کھڑے ہوئے ہیں۔'

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ 11 تاریخ کو اسرائیل بطور ایک ریاست کے عالمی عدالت انصاف میں جائے گا۔ تاکہ مضحکہ خیز خونریزی کے الزام کو رد کرسکے۔ کیونکہ جنوبی افریقہ حماس کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

اسرائیل نے الٹا حماس پر انہی الزامات کی بوچھاڑ کر دی جو دراصل اسرائیل پر لگائے گئے ہیں۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر سے لے کر اب تک 23350 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جن میں بچوں اور خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ جبکہ 58 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ 20 لاکھ فلسطینی بےگھر ہیں۔ 120 ایمبولنسز کو تباہ اور 350 طبی عملے کے لوگوں اور ڈاکٹروں کو اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ مغربی کنارے پر 10 جنوری کو اسرائیل نے ایک ایمبلونس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں طبی عملے کے 4 کارکنوں اور 2 زخمیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

واضح رہے عالمی عدالت انصاف میں 17 ججوں پر مشتمل پینل ہے۔ جو فریقین کے تین تین گھنٹے کے لیے موقف کو سنے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں