مشرق وسطیٰ

عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل پرنسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام

جنوبی افریقہ کی وکیل عدیلہ ہاسم نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسرائیل کی بمباری مہم کا مقصد ’فلسطینیوں کی زندگی کو تباہ کرنا‘ ہے اور اس نے فلسطینیوں کو ’قحط کے دہانے پر‘ دھکیل دیا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یورپی ملک نیدرلینڈز کے شہر دا ہیگ میں قائم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ( آئی سی جے) یا بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے جمعرات کے روز اس صدی کے سب سے بڑے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا۔

عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ’غزہ میں نسل کشی‘ کے مقدمے کی سماعت کے آغاز پر جنوبی افریقہ کے نمائندوں کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ اس معاملے پر اپنے دلائل دیں۔ جمعے کو اسرائیل کو بھی موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ اپنا موقف پیش کرے۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ( آئی سی جے) یا بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس کیس کی سماعت دو روز [ 11 اور 12 جنوری] تک جاری رہے گی جس میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے والے وکلا، اسرائیل کی نمائندگی کرنے والے وکلا پوری دنیا کے سامنے کمرہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔

سماعت کے اختتام پر عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ اس معاملے پر عبوری حکم نامہ جاری کیا جائے یا نہیں۔

جنوبی افریقہ نے جمعرات کو عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل پر اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی سات اکتوبر کی کارروائی بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔

جنوبی افریقہ کے وزیر انصاف رونالڈ لامولا نے کہا: ’کسی ریاستی علاقے پر کوئی مسلح حملہ چاہے کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، کنونشن کی خلاف ورزیوں کا جواز فراہم کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’سات اکتوبر کے حملے پر اسرائیل کا ردعمل اس حد کو پار کر گیا ہے جس سے نسل کشی کے حوالے سے کنونشن کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

جنوبی افریقہ کی وکیل عدیلہ ہاسم نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسرائیل کی بمباری مہم کا مقصد ’فلسطینیوں کی زندگی کو تباہ کرنا‘ ہے اور اس نے فلسطینیوں کو ’قحط کے دہانے پر‘دھکیل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’نسل کشی کا کبھی پیشگی اعلان نہیں کیا جاتا لیکن اس عدالت کے پاس گذشتہ 13 ہفتوں کے شواہد موجود ہیں جس میں (اسرائیل کے) غیر متضاد طرز عمل اور اس کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے جو نسل کشی کی کارروائیوں کے معقول دعوے کو درست ثابت کرتا ہے۔‘

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے کہا کہ ’اسرائیل جنوبی افریقہ کے مضحکہ خیز خونریزی کے الزام کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے پیش ہو گی کیونکہ پریٹوریا (جنوبی افریقہ کا دارالحکومت) حماس کی ریپسٹ حکومت کو سیاسی اور قانونی تحفظ دے رہا ہے۔‘

حماس کے عہدیدار ڈاکٹر سامی ابو زہری نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم عدالت پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام دباؤ کو مسترد کرے اور اسرائیلی قبضے کو مجرمانہ قرار دینے اور غزہ پر جارحیت کو روکنے کا فیصلہ کرے۔‘

’انصاف کے حصول میں ناکامی، عدالت کے ناکام کردار کا مطلب یہ ہوگا کہ قابض غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف اپنی نسل کشی کی جنگ جاری رکھے گا۔‘

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے 29 دسمبر 2023 کو انصاف کی عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ عدالت یہ واضح کرے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس کے خلاف کریک ڈاؤن کی آڑ میں مبینہ نسل کُشی کر رہا ہے۔

اس مقدمے میں جنوبی افریقہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے عارضی یا قلیل مدتی اقدامات کرے جس میں اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی مہم روکنے کا حکم دیا جائے، غزہ کو معاوضے کی پیشکش کی جائے اور تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔

غزہ پر حملوں کے بعد جنوبی افریقہ سمیت دنیا کے بھر سے مختلف ممالک بشمول پاکستان اسرائیل کی مذمت کرتا آیا ہے اور عالمی برداری اسرائیل سے فوری جنگ کا مطالبات بھی دہراتی آئی ہے۔

جنوبی افریقہ کا موقف ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی کارروائیوں میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے ارتکاب کی رپورٹس قتل عام کے زمرے میں آتی ہیں جن کی 1948 کے نسل کشی کی روک تھام اور سزا کے کنونشن میں وضاحت کی گئی ہے۔

عالمی عدالت انصاف میں مقدمے کے آغاز پر جنوبی افریقہ نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے نسل کشی کے الزامات کے بارے میں کہا ہے کہ ’غزہ کے لوگوں کے جاری قتل عام کے خلاف ہماری مخالفت نے ہمیں ایک ملک کے طور پر آئی سی جے سے رجوع کرنے پر مجبور کیا ہے، جسے اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے حمایتی، امریکہ نے مسترد کر دیا ہے۔‘

کیا اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے؟ جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل نسل کشی ہے، اس لیے اس نے 29 دسمبر 2023 کو دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا۔

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا

لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک غزہ کے اندر اپنی فوجی مہم میں ’بے مثال اخلاقیات‘ کے ساتھ کام کر رہا ہے، جب کہ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے جنوبی افریقہ کے مقدمے کا موازنہ ’خون کی توہین‘ سے کیا ہے۔

جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں 84 صفحات پر مشتمل ایک قانونی درخواست جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات ’نسل کشی کے مترادف‘ ہیں کیونکہ ان کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کے ایک اہم حصے کو تباہ کرنا ہے۔‘

جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے سینکڑوں جنگجو غزہ سے جنوبی اسرائیل میں داخل ہوئے تھے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اور اس حملے میں 1300 افراد ہلاک جبکہ 240 کو یرغمال بنا کر واپس غزہ لے جایا گیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی ردعمل کے نتیجے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک غزہ میں 23000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں ان میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں۔

ادھر جنوبی افریقہ کی طرف سے جمع کیے گئے شواہد دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی کارروائیاں اور جو اقدام وہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں ’نسل کشی کرنے کی خصوصیت کی حامل ہیں کیونکہ ان کا مقصد فلسطینی قوم اور نسل کے ایک حصے کو تباہ کرنا ہے۔‘

اس سے مراد اسرائیل کی فضائی بمباری جیسی کارروائیوں کے علاوہ وہ اقدام بھی ہیں جو وہ کرنے میں ناکام رہے ہیں جیسے کہ عام شہریوں کو نقصان سے بچانا۔

اس مقدمے میں اسرائیلی بیانیہ بھی شامل ہے جس میں وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے تبصرے بھی شامل ہیں اور ان کو ’نسل کشی کی نیت‘ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔۔

نسل کشی کیا ہے؟

اقوام متحدہ کے 1948 میں جاری کردہ نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کے مطابق، نسل کشی کا مطلب ہے کسی قومی، نسلی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کارروائیوں کا کمیشن۔ ان کاموں میں شامل ہیں:

گروپ کے ارکان کو قتل کرنا۔
گروپ کے اراکین کو شدید جسمانی یا نفسیاتی نقصان پہنچانا۔
جان بوجھ کر گروپ کو زندگی کے حالات کے تابع کرنا جس کا مقصد اسے جسمانی طور پر، مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنا ہے۔
گروپ کے اندر بچوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے اقدامات نافذ کرنا۔
بچوں کو گروپ سے دوسرے گروپ میں زبردستی منتقل کرنا۔
نسل کشی کو ثابت کرنا سب سے مشکل بین الاقوامی جرائم میں سے ایک ہے۔

ین الاقوامی فوجداری عدالت میں لبنان کی سابق وکیل دیالہ شہادیہ کے مطابق’نسل کشی کو ثابت کرنے سے زیادہ اہم چیز تباہ کرنے کے ارادے کو ثابت کرنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو جنوبی افریقہ کی درخواست میں شامل ہے، کیونکہ اس میں اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ کا صفایا کرنے اور فلسطینیوں کو قتل کرنے کا مطالبہ کرنے والی عوامی تقاریر کو دستاویز کیا گیا ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں