عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کے نسل کشی کے مقدمے کی سماعت

مقدمے میں جنوبی افریقہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عارضی یا قلیل مدتی اقدامات کرے جس میں اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی مہم روکنے کا حکم دیا جائے، غزہ کو معاوضے کی پیشکش کی جائے اور تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی عدالت انصاف اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے مقدمے پر آج سے سماعت شروع کرے گی، پاکستان نے جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر درخواست کا خیرمقدم کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ نے عالمی عدالتِ انصاف میں دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ غزہ میں حملوں کے ذریعے اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ درخواست میں غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کو ہنگامی طور پر معطل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت میں یہ کارروائی کیسے شروع کی؟

اس مقدمے کا مرکزی نکتہ 1948 کی اس کنونشن پر مبنی ہے جو نسل کُشی کے جرائم کی روک تھام اور سزا سے متعلق دوسری عالمی جنگ اور ہولوکاسٹ کے بعد تیار کیا گیا تھا۔

اس کنونشن کے مطابق ’کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے قتل کا ارتکاب نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔‘

جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے 1948 میں اس کنونشن پر دستخط کیے تھے۔ جس کے آرٹیکل نو کے مطابق قوموں کے درمیان تنازعات کو اس کنونشن کے تحت عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس لیے جنوبی افریقہ نے اپنی 84 صفحات پر مشتمل دائر کردہ درخواست میں کہا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات مبینہ نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ اس کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنا ہے۔

جہاں فلسطین نے اس مقدمے کا خیر مقدم کیا ہے وہیں اسرائیل نے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ ان کے حکام الزامات کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوں گے۔

اسرائیل کو عدالت میں گھسیٹنے پر پاکستان کا خیر مقدم

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق قانونی مؤقف کا انتظار ہے۔ پاکستان نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف جنوبی افریقہ کے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کےعالمی عدالت انصاف میں جانے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق قانونی مؤقف کا انتظار ہے۔

کیا اس مقدمے سے غزہ میں جنگ رک سکتی ہے؟

اگر حال ہی کی مثال دیکھیں تو 2022 میں یورپی ملک یوکرین نے عالمی عدالت میں روس کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس کے بعد روس کو فوری طور پر اپنے حملے کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اقوام متحدہ کی سب سے معتبر عدالت ہے اور اس کے احکامات قانونی طور پر ممالک کو پابند کرتے ہیں لیکن ہمیشہ ان پرعمل درآمد نہیں ہوتا۔

اسی وجہ سے روس نے عدالت کے حکم کو نظر انداز کیا اور یوکرین پر حملے جاری رکھے۔

ماضی کی مثالوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایسے مقدمات لمبے عرصے تک چل سکتے ہیں جبکہ ابتدائی فیصلے کے بعد عدالت پورے مقدمے پر غور کرنے کے طویل عمل کا آغاز کرتی ہے۔

اس کیس میں اسرائیل عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کر سکتا ہے اور وہ 151 دوسرے ممالک جنہوں نے نسل کشی کے کنونشن پر دستخط کیے ہیں وہ بھی اپنی تجاویز پیش کرنے کے لیے عدالت کو درخواست دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 29 دسمبر 2023 کو جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا اور اسرائیل کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیل کی جانب سے جاری بمباری میں غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 23 ہزار 300 سے تجاوز کر گئی جبکہ بچے اور خواتین سمیت ہزاروں افراد زخمی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں