آئی سی جے اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی درخواست مسترد کر دے: اسرائیلی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تقریبا چوبیس ہزار ہلاکتوں کے تناظر میں جنوبی افریقہ نے فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے پر بین الاقوامی عدالت سے اسرائیل کے خلاف رجوع کر رکھا ہے۔ جمعہ کے روز جنوبی افریقہ کی درخواست پر سماعت کا دوسرا مرحلہ تھا جس پر اسرائیل نے جنوبی افریقہ کے طرف سے نسل کشی کے الزامات کا جواب دینا تھا۔

اس موقع پر اسرائیل نے عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جائے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ کے قانونی مشیر ٹال بیکر نے آئی سی جے کو سماعت کے دوسرے روز کہا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی طرف سے یہ درخواست دسمبر کے آخری ہفتے میں دی گئی تھی۔ جس میں اسرائیل کے خلاف مطالبہ کیا گیا تھا کہ فوری اقدام کرتے ہوئے اسرائیل کو حکم دیا جائے کہ وہ غزہ میں جاری جارحانہ اقدامات ختم کرے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد 11 اور 12 جنوری کو اس پر سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔ پہلے روز جمعرات کو جنوبی افریقہ نے اپنے دلائل پیش کیے اور درخواست میں پیش کیے گئے مؤقف کو دہرایا ۔ جبکہ اسرائیل نے جنوبی افریقہ کے ان الزامات کا جمعہ کے روز جواب دیا ہے۔

اسرائیلی مشیر بیکر نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ حماس اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف اسرائیل کارروائیاں اپنے حق دفاع کے طور پر کر رہا ہے۔ جبکہ جنوبی افریقہ کا مؤقف بالکل بے بنیاد ہے۔ جنوبی افریقہ واقعات کو مسخ کر کے پیش کر رہا ہے۔

اسرائیلی مشیر نے جنوبی افریقہ کے بالکل خلاف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نسل کشی ہوئی ہے تو وہ اسرائیل کے خلاف ہوئی ہے۔

واضح رہے غزہ میں اسرائیل کے مرنے والے فوجیوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 24 ہزار کو چھونے والی ہے۔ جب سے اسرائیلی بمباری جاری ہے تب سے 23 لاکھ فلسطینی گھروں سے بےگھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں