بھارت: مدارس کی فنڈنگ روکے جانے سے 21000 اساتذہ کے روزگار کو خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارتی ریاست اتر پردیش میں ریاضی، الجبرے اور سائنس کے مضامین سمیت دیگر مضامین پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائی روک دی گئی۔ اساتذہ کے لیے یہ خوفناک معاشی قتل کی صورت حال سے 21 ہزار اساتذہ کے علاوہ ان کے اہل خانہ سب مشکلات میں گھر گئے۔

مودی حکومت نے اس پروگرام کے لیے مالی سال مارچ 2016 کے دوران تقریباً تین ارب بھارتی روپے (36 ملین ڈالر) کے ریکارڈ فنڈ مختص کئے تھے مگر مارچ 2022 میں اس فنڈ کو بند کر دیا گیا۔

حکومتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس حکومت کے تحت 2009/2010 میں شروع ہونے والے اس پروگرام کے پہلے چھ سالوں میں 70,000 سے زیادہ مدارس کو پروگرام کے تحت فنڈ دیا گیا۔

اتر پردیش میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے سربراہ افتخار احمد جاوید کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو مالی اعتبار سے بے دست و پا بنادینے کے حکومتی اقدام سے مسلمان اور ان نے بچوں کے علاوہ اساتذہ و تعلیمی ادارے سب کم ازکم 30 سال پیچھے چلے جائیں گے۔

واضح رہے ایک ارب 42 کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 14 سے 15 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے 'ہیومن رائیٹس واچ ' کا کہنا ہے کہ ہندو اکثریتی آبادی کے لوگ اور بعض گروپ مسلمانوں سمیت دوسری اقلیتی آبادیوں کے لوگوں کو بھی دھمکاتے رہتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق مسلمانوں کے تعلیمی اداروں پر فنڈز حاصل کرنے کی یہ پابندی اتر پردیش سے باہر بھی ہے بلکہ پورے بھارت میں عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم بھارت کی متعلق وزارت نے اس پابندی کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں