روس اور یوکرین

جنگ بندی کی تو روس اس کو جنگ کی تیاریوں کے لیے استعمال کرے گا: زیلنسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو ایک ایسے وقت میں جنگ بندی کو مسترد کر دیا جب ان کا ملک روسی فوج کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کریملن کی افواج یوکرین کی افواج کو شکست دینے کے لیے دوبارہ مسلح ہونے اور دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقفے کا فائدہ اٹھائیں گی۔

زیلنسکی نے ایسٹونیا کے دورے کے دوران کہا کہ "یوکرین کے میدان جنگ میں ایک وقفے کا مطلب جنگ میں وقفہ نہیں ہوگا۔ ایک عارضی وقفہ اس کے (روس) کے مفاد میں ہوگا اور بعد میں ہمیں کچل سکتا ہے"۔

روس کی جانب سے 2022 میں یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد سے وقتاً فوقتاً محدود جنگ بندی کی تجاویز پیش کی جاتی رہی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی تسلیم نہیں لیا۔

دونوں فریق 22 ماہ کی لڑائی کے بعد اپنے ہتھیاروں کو دوبارہ بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں طویل مدتی تصادم کے امکان کا سامنا ہے۔ اس جمود کو دیکھتے ہوئے کہ فرنٹ لائن جو کہ تقریباً 1500 کلومیٹر لمبی ہے۔ زیادہ تر موسم سرما کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ دونوں کو توپ خانے کے گولوں، میزائلوں اور ڈرونز کی ضرورت ہے تاکہ وہ طویل فاصلے تک جنگ لڑ سکیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو کو شمالی کوریا سے توپ خانے اور میزائل اور ایران سے ڈرون ملتے ہیں۔ 4 جنوری کو وائٹ ہاؤس نے امریکی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے کہا کہ روس نے شمالی کوریا سے بیلسٹک میزائل حاصل کیے ہیں اور وہ ایران سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، مرکز میں، ایسٹونیا کے صدر الار کاریز، درمیان میں دائیں، اور ایسٹونیا کے وزیر اعظم کاجا کالس، درمیان میں، ریگیکوگو، یا اسٹونین پارلیمنٹ، ایسٹونیا کے شہر تالن میں، تقریر کرنے کے بعد اراکین پارلیمان کے ساتھ ایک گروپ فوٹو کے لیے پوز دے رہے ہیں۔ جمعرات، جنوری 11، 2024۔ (اے پی فوٹو)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، مرکز میں، ایسٹونیا کے صدر الار کاریز، درمیان میں دائیں، اور ایسٹونیا کے وزیر اعظم کاجا کالس، درمیان میں، ریگیکوگو، یا اسٹونین پارلیمنٹ، ایسٹونیا کے شہر تالن میں، تقریر کرنے کے بعد اراکین پارلیمان کے ساتھ ایک گروپ فوٹو کے لیے پوز دے رہے ہیں۔ جمعرات، جنوری 11، 2024۔ (اے پی فوٹو)

زیلنسکی دو روزہ دورے کے ایک حصے کے طور پر اسٹونیا کے دارالحکومت ٹالن پہنچے۔اس دوران انہوں نے بالٹک ریاستوں کا دورہ کیا، جو یوکرین کی سب سے مضبوط حامی ہیں ریاستی قرار دی جاتی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کایا کالس سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں ایک ٹی شرٹ دی جس میں اسٹونین لفظ "دفاع کا عزم " الفاظ لکھے تھے۔اسے زیلنسکی نے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران پہنا تھا۔

زیلنسکی نے اسٹونین پارلیمنٹ میں کہا کہ "ظالم کو شکست ہونی چاہیے۔

بیلگورود مشکل وقت سے گذر رہا ہے

دوسری جانب یوکرین کی سرحد سے متصل بیلگوروڈ کے روسی گورنر نے جمعرات کو کہا کہ ان کا خطہ یوکرین کی حالیہ بمباری کے نتیجے میں "مشکل دور" سے گذر رہا ہے۔

بچوں سمیت سینکڑوں رہائشیوں نے حملوں کے بعد علاقے کا دارالحکومت چھوڑ دیا جس میں 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔

گورنر ویاچسلاو گلادکوف نے ماسکو میں ایک نمائش کے دوران کہا کہ بیلگوروڈ کا علاقہ مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزید حملوں اور گھروں کی تباہی کے خطرے کی وجہ سے سرحد کے قریب اسکولوں نے فاصلاتی تعلیم کی طرف رخ کر لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں