امریکی انٹیلی جنس کا خان یونس کی سرنگوں میں حماس کی قیادت کے ٹھکانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

باخبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ’سی آئی اے‘ حماس کے سینیر رہ نماؤں اور غزہ میں یرغمالیوں کے مقام کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ یہ معلومات اسرائیل کو فراہم کی جا رہی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو خان یونس میں زیرزمین سرنگوں میں حماس کی قیادت کی موجودی کا پتا چلا ہے۔

7 اکتوبر کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملوں کے بعد کے ایک نئی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی۔ اس ٹاسک فورس کے ذمہ غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔

حکام نے بتایا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے فوراً بعد امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور محکمہ دفاع کو ایک میمو بھیجا جس میں ٹاسک فورس کی تشکیل کا حکم دیا گیا تھا۔

انہوں نے خفیہ اداروں کو حماس کی قیادت کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی ہدایت کی۔ ٹاسک فورس کی تشکیل کسی نئے قانونی حکام کے ساتھ نہیں تھی لیکن وائٹ ہاؤس نے حماس کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے کی ترجیح پر زور دیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ معلومات اسرائیل کے لیے کتنی اہم ہیں، حالانکہ حماس کے کسی سینیر رہ نما کو گرفتار یا ہلاک نہیں کیا گیا ہے۔ امریکا اسرائیل کو حماس کے کم یا درمیانے درجے کے کارکنوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم نہیں کرتا۔

7 اکتوبر سے پہلے اسرائیل نے اندازہ لگایا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں کی تعداد 20 سے 25 ہزار کے درمیان تھی۔ 2023 کے آخر تک اسرائیل نے امریکی حکام کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ انہوں نے اس فورس کے تقریباً ایک تہائی کو ہلاک کر دیا ہے۔

کچھ امریکی حکام کا خیال ہے کہ حماس کے نچلے درجے کے ارکان کو نشانہ بنانا گمراہ کن ہے کیونکہ انہیں آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس سے شہریوں کو غیر مناسب خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نےمزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی بمباری کی مہم جس میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق تقریباً 24,000 فلسطینی مارے گئے ہیں حماس کے جنگجوؤں پر مشتمل ہوسکتے ہیں۔

حماس کی تزویراتی عسکری قیادت کو ختم کرنا ایک اور معاملہ ہے۔ اسرائیل ایک بڑی فتح حاصل کرے گا اگر وہ یحییٰ السنوار کو اور عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے کمانڈر محمد ضیف کو ہلاک یا گرفتار کر لیتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ السنوار کو نشانہ بنانا صرف اسے تلاش کرنے تک محدود نہیں ہے کیونکہ امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ السنوار جنوبی غزہ میں خان یونس کے نیچے سرنگ کے نیٹ ورک کے سب سے گہرے حصے میں چھپا ہوا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ یرغمالیوں میں گھرا ہوا ہے اور انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس لیے اسے زندہ پکڑنا یا مارنا ایک پیچیدہ اور مشکل آپریشن ہوگا۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ امریکا نے 2 جنوری کو بیروت کے نواحی علاقے پر اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے بارے میں کوئی انٹیلی جنس معلومات فراہم نہیں کیں۔اس کے نتیجے میں حماس کے نائب رہ نما صالح العاروری کو قتل کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں