امریکی حملے کا نشانہ بننے والے حوثیوں کے مراکز میں تباہی کے سیٹلائٹ مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کل جمعہ کی صبح امریکا اور برطانیہ کی جانب سے یمن میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر کیے گئے دسیوں حملوں کے بعد ان سے ہونے والی تباہی کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

سیٹیلائٹ کی مدد سے لی گئی تصاویر میں حوثیوں کے مراکز میں ہونے والی تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی مسلح افواج کی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے یمن میں حوثیوں کے ایک ریڈار اسٹیشن پر حملہ کر کے اسے تباہ کیا ہے۔

سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے جنگی جہاز ’یو ایس ایس کارنی‘ سے داغے گئے ٹوما ہاک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے حوثی ریڈار کی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ جب کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حوثیوں کے حملے جاری رہنے کی صورت میں مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔

یہ بیان یمن کے قلب میں حوثی باغیوں کے مختلف اہداف پر کئی فضائی حملوں کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

دریں اثنا MAXAR Technologies نے کئی سیٹلائٹ تصاویر شائع کیں جن میں حوثی فوجی اڈوں پر بمباری کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔ تصویروں میں حملوں سے پہلے اور بعد میں ان مقامات کو دکھایا گیا ہے جو حملوں کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

کل جمعہ کو امریکی فضائیہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے حوثیوں کے 16 مقامات پر 60 اہداف کے خلاف حملے کیے، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، گولہ بارود کے گوداموں، لانچنگ سسٹمز، مینوفیکچرنگ سہولیات اور فضائی دفاعی ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں پر حملوں میں 100 سے زیادہ گائیڈڈ میزائل داغے گئے اور جہازوں اور آبدوزوں سے داغے گئے ہوائی جہاز اور ٹوماہاک میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ "ہتھیاروں، گولہ بارود اور میزائل لانچنگ سائٹس پر مشتمل مقامات کو نشانہ بنایا گیا"۔

یہ حملے طیاروں، بحری جہازوں اور آبدوزوں کا استعمال کرتے ہوئے یمن کے متعدد شہروں ذمار، صنعا، صعدہ، تعز اور حدیدہ میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ یمن پر حملہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے "حملوں" کے جواب میں کیا گیا اور یہ دفاعی تھا۔

صدر بائیڈن نے پنسلوانیا میں اپنے دورے کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب میں حوثی مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بارے میں کہا کہ "یہ حملے حوثیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کے جواب میں کیے گئے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں