صومالیہ میں "الشباب" کے ہاتھوں اغوا اقوام متحدہ کے ہیلی کاپٹر کے مسافر کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دو سکیورٹی ذرائع نے جمعے کے روز رائیٹرز کو بتایا کہ صومالیہ میں الشباب کے ہاتھوں اغواء کیے گئے ہیلی کاپٹر کے مسافروں میں مصری بھی شامل ہیں۔

دونوں ذرائع نے وضاحت کی کہ مصر، یوگنڈا اور صومالیہ کے شہریوں کے علاوہ کم از کم 3 یوکرینی باشندے اقوام متحدہ کے ایک ہیلی کاپٹر پر سوار تھے، جسے اس ہفتے کے شروع میں وسطی صومالیہ میں الشباب کے عسکریت پسندوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے کاپٹر میں 9 مسافر سوار تھے۔ یہ ہیلی کاپٹر فضائی طبی انخلاء کے مشن پر تھا جب اسے تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے اسے الشباب کے زیر کنٹرول علاقے ہندیر گاؤں کے قریب ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

دونوں سکیورٹی ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ان کے نام شائع نہ کرنے کی درخواست کی۔

سکیورٹی ذرائع میں سے ایک اور کیس سے واقف ایک اور شخص نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں چار یوکرینی عملے کے ارکان کے طور پر سوار تھے۔

صومالی حکومت نے جمعرات کو کہا کہ وہ یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کام کر رہی ہے، لیکن فوجی افسران نے خبردار کیا کہ ایسے علاقے میں اس طرح کی کوششیں مشکل ہوں گی۔

رائیٹرزکے ذریعے شائع کیے گئے اقوام متحدہ کے اندرونی میمو میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ایک مسافر کو ہلاک کیا کردیا گیا ہے۔الشباب کے عسکریت پسندوں نے چھ مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ میمورنڈم میں مزید کہا گیا کہ دو افراد فرار ہوگئے اور ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہے۔

یوکرین کی حکومت نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یوگنڈا کی فوج کے نمائندوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ابھی تک مصری حکومت سے اس حوالے سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں