ڈنمارک کی تحقیقات میں مشتبہ دہشت گرد حملے سے حماس کے تعلق کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ڈنمارک کی پولیس نے جمعے کے روز بتایا کہ دسمبر میں ڈنمارک میں پولیس نے ناکام بنائے گئے دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے سات افراد کا تعلق حماس سے ہے۔

ڈنمارک کے پبلک پراسیکیوٹر اینڈرس لارسن نے کوپن ہیگن میں اپیل کورٹ کے سامنے سماعت کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ اس کیس کا حماس سے تعلق ہے۔ ڈنمارک کی پولیس نے’اے ایف پی‘ کو ایک مکتوب میں اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

پولیس نےاس کی کوئی اضافی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق لارسن نے کہا کہ "تحقیقات میں ایسی معلومات فراہم کی گئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس کیس کا حماس سے تعلق ہے‘‘۔ لارسن نے مزید کہا کہ معلومات کو خفیہ رکھنا اب ضروری نہیں ہے"۔

14 دسمبر کو ڈنمارک نے ایک منصوبہ بند دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات کے حصے کے طور پر تین افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے میں ملوث مشتبہ افراد کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

اسرائیل نے اعلان کیا کہ ڈنمارک سے گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد "حماس کے نام" پر کام کر رہے تھے۔ ڈنمارک کے حکام نے اس وقت اس الزام کی تصدیق نہیں کی تھی۔

ایک متعلقہ سیاق و سباق میں وزیر انصاف پیٹر ہیملگارڈ نے کہا کہ "ڈنمارک کے لیے دہشت گردی کا خطرہ بدقسمتی سے سنگین ہے، لیکن خوش قسمتی سے ہمارے پاس۔ خصوصی اور چوکس پولیس اور انٹیلی جنس سروسز ہیں جو اپنی طاقت کے مطابق ہر کام کرتی ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں