’بچے کی زبان جلا دی اور بال نوچ ڈالے‘ ترکیہ میں شامی بچے پر تشدد کا ہولناک واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی ترکیہ کی ریاست غازی عنتاب میں شامی پناہ گزین بچے پر حملے کے واقعے نے ملک میں شدید ہنگامہ اور غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ 14 سالہ بچے کا ریاست کے اندر واقع ایک ہسپتال میں علاج جاری رہنے کے دو روز بعد اس کیس کی ایک ویڈیو اور دیگر تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

بچے کو چند روز قبل اغوا کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اغوا کاروں نے اس کی زبان جلا دی تھی اور اس کے سر کے بال نوچ ڈالے تھے۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ فٹ بال کے کھیل سے شروع ہوا جب شامی پناہ گزین بچہ احمد ریاست کے علاقے "جمہوریت" میں واقع ایک اسکول میں کھیل رہا تھا، لیکن اس بچے نے ترک بچوں سے بحث کی جنہوں نے اپنے اہل خانہ کو اطلاع دی۔ انہوں نے اسے مارا پیٹا اور پھر اسے دور دراز کے علاقے میں منتقل کر دیا۔ اس جگہ انہوں نے بچے کو شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

شامی بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے کے کئی طریقے تھے جن میں اسے دھاتی اوزاروں سے مارا گیا۔ اس کے بال نکالےگئے۔ بال اس کے منہ میں ڈالےگئے۔ اس کے علاوہ اغوا کاروں نے اس کے چہرے پر بیگ رکھ کر اس ک سانس روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے نے انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

تشدد کے طریقے احمد کو دھاتی اوزاروں سے مارنے، اس کے بال کھینچنے اور اسےپانی میں غوطے لگانے محدود نہیں تھے، بلکہ اغوا کاروں نے اسے سڑک کے کنارے چھوڑنے سے پہلے اس کی زبان اور اس کے جسم کے کچھ حصوں کو سگریٹ سے جلا ڈالا۔ پھر وہ اسے نیم مردہ حالت میں سڑک کے کنارے پھینک کر چلے گئے۔

اگرچہ ترک حکومت کے اہلکاروں نے شامی بچے کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور مجرموں کو کٹہرے میں لانے کا عہد کیا، تاہم حکام اب تک ان میں سے صرف دو کو ہی گرفتار کر سکے ہیں۔

ترکیہ اور شامی کارکنوں نے شامی بچے پر حملے کے واقعے کی مذمت کی، اور ہیش ٹیگ "احمد " جمعرات سے سوشل میڈیا پر ملک میں ٹاپ ٹرینڈ پر رہا۔

ایک ہفتہ قبل کلیس کے علاقے میں سپریم کرمنل کورٹ نے گذشتہ چھ اپریلخ کو شامی لڑکی غنی مرجمک کو قتل کرنے اور اسے کنویں میں پھینکنے کے الزام میں ترک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں