حوثیوں پر بمباری کرنے والا ملک خود کو محفوظ نہ سمجھے:ایران کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تہران کی جانب سے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ حملوں کی مذمت کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکا اور برطانیہ پر "یمن کے عوام کے خلاف اعلان جنگ" کا الزام لگایا ہے۔

بہ ظاہر دھمکی آمیز لہجے میں ایروانی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک جس نے حوثیوں پر حملوں میں حصہ لیا یا آج کے بعد ایسا کرے گا تو وہ خود کو خطرے میں ڈالے گا۔

انھوں نے نیوز ویک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "واشنگٹن کے حملے یمن کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں، جو بالآخر یمنیوں کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ کے حوالے سے اسرائیل کی طرف سے امریکہ کو براہ راست جنگ میں گھسیٹنے اور خطے کے دیگر حصوں تک جنگ کا دائرہ پھیلانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’بحیرہ احمر کب ایک غیر محفوظ علاقے میں تبدیل ہوا۔ اس تبدیلی میں کون سے عوامل کارفرما تھے؟"۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ حوثیوں کی جنگ ہے۔

اسلحہ سے مدد؟!

جب ایرانی سفیر سے حوثیوں کے لیے ایرانی حمایت اور انہیں اسلحہ کی فراہمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا ملک یمن پرعائد ہتھیاروں کی پابندی کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم یمن پر عائد اسلحے کی پابندی کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے تحفظات کے باوجود ہم نے اقوام متحدہ کے رکن ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پر کاربند رہے اور اس کے فیصلوں کا احترام کیا"۔

غزہ جنگ کے پھیلنے کے خطرات اور حوثیوں پر حملوں کے نتائج کے بارے میں ایراوانی نے کہا کہ معاملہ صرف حوثیوں پر منحصر ہے۔

یہ بیانات گذشتہ دو دنوں کے دوران امریکی-برطانوی حملوں میں 6 یمنی گورنریوں میں 60 سے زیادہ اہداف پر حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ان حملوں میں حوثیوں کے اسلحہ کے ذخائر، ریڈار سائٹس،ر ڈرون اور میزائلوں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے ان حملوں کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہےمگر ابھی تک ان کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں