عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے پر جرمنی کی اسرائیل کے لیے حمایت قابل مذمت ہے:نمیبیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نمیبیا نےجرمنی کی طرف سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف زیر سماعت نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرنے پر جرمنی کی مذمت کی ہے۔ نمیبیا خود بھی جرمنی کی طرف سے اپنی تاریخ کی پہلی نسل کشی کا نشانہ بن چکا ہے۔

جرمنی نے یہ نسل کشی 20 ویں صدی میں کی تھی۔ جس کا بعد ازاں جرمنی نے زبانی اعتراف بھی کیا ہے کہ اس نے 1904 اور 1908 کے دورانیے میں نمیبیا کے قبیلوں کے 70000 انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

اب جمعہ کے روز جرمنی نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں تقریباً اب تک 24 ہزار فلسطینیوں کے تیز رفتار قتل عام کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں لگائے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ نمیبیا کے صدر نے جرمنی کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے نسل کشی کے حوالے سے بین الاقوامی عدالت انصاف کے بارے میں ہٹ دھرمی کا کھلا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت انصاف کا کچھ بھی فیصلہ جائے اسرائیل کو غزہ میں اہدف کے حصول اور جنگ سے نہیں روکا جا سکتا۔ نیتن یا ہو نے مزید کہا' دنیا کی کوئی بھی عدالت اسرائیلی جنگ میں رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتی۔ '

واضح رہے جنوبی افریقہ نے ماہ دسمبر کے اواخر میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے 1948 کے نسل کشی کے خلاف کنونشن کی بنیاد پر رجوع کیا ، اس نے اپنی درخواست میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیا۔ نیز عدالت انصاف سے فوری جنگ بندی کرانے کا مطالبہ کیا۔

گیارہ اور بارہ جنوری کو جنوبی افریقہ کی اس درخواست کی سماعت جاری رہی۔ جس میں اسرائیل اور جنوبی افریقہ نے اپنے اپنے موقف کے ساتھ دلائل عدالت کے روبرو پیش کیے۔

تاہم جرمنی نے جنوبی افریقہ کی درخواست کی مخالفت کی ہے اور اسرائیل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ نمیبیا کے صدر نے جرمنی کو اس سلسلے میں ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ نسل پرست اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔

صدر ہیگ گینگوب نے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ' لگتا ہے جرمنی اپنی خوفناک تاریخ سے سبق سیکھنے کی اہلیت کھو چکا ہے۔ کہ وہ 23 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔'

جرمنی نے جمعہ کے روز بین الاقوامی عدالت انصاف میں سامنے آنے والی صورت حال کو اسرائیل کے خلاف نسل کشی سے متعلق کنونشن کا سیاسی استعمال قرار دیا اور کہا' اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔' ایسا حقیقت میں نہیں ہے جو اسرائیل کے خلاف الزام لگائے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں