بحیرہ احمر کے حملوں میں ایران نے انتہائی بدنیتی پر مبنی کردار ادا کیا: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ اگر ایران نے ان حملوں میں انتہائی بدنیتی پر مبنی کردار ادا کیا تو برطانیہ یمن میں حوثیوں کے خلاف دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔

'واضح پیغام'

سنڈے ٹیلی گراف کی طرف سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کیمرون نے لکھا کہ "ہم نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ حوثیوں کے اقدامات ناقابل قبول ہیں اور ہم ان کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم ہمیشہ جہاز رانی کی آزادی کا دفاع کریں گے۔ سب سے بڑھ کر ہم اپنے الفاظ پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں گے"۔

برطانوی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ "سمندری راستوں کو کھلا رکھنا ایک اہم قومی ضرورت ہے۔ بحیرہ احمر میں کشیدگی سے برطانیہ اور دنیا میں بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ظاہر ہوتا ہے‘‘۔

"بدنیتی پرمبی کردار "

ڈیوڈ کیمرون نے زور دے کر کہا کہ ان فوجی کارروائیوں نے "حوثیوں کی صلاحیتوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ حملے ضروری، متناسب اور جائز" ہیں اور غزہ کے تنازعے سے "مکمل طور پر الگ" ہیں۔

وزیر خارجہ نے ایران کے کردار کی بھی مذمت کی اور اتوار کے روز اسکائی نیوز کو بتایا کہ انہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ تہران خطے میں حوثیوں یا حماس کے حوالے سے "پراکسیز" کے پیچھے "بدنیتی پر مبنی کردار ادا کر رہا ہے‘‘۔

"ہم نہیں ہچکچائیں گے"

یہ بیان امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے جاری ایک بیان کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس نےانہوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی تجارت کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے "ضرورت پڑنے پر" مزید اقدامات کرنے میں "ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔"

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں بحیرہ احمر میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، حوثیوں نے سمندری ٹریفک کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔

جمعہ کی صبح سویرے امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں فوجی اہداف پر حملے کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں