برطانیہ نے حزب التحریر کو دہشت گرد گروپ قرار دے دیا

حزب التحریر سے برطانیہ میں تعلق رکھنا، اس کی تشہیر کرنا، اس کے اجلاسوں کا اہتمام کرنا اور اس کے لوگو کی عوامی سطح پر نمائش جرم ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے پیر کو حزب التحریر کو کالعدم دہشت گرد گروپ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کی کی کارروائی شروع کر دیا۔

پابندی کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ میں حزب التحریر سے تعلق رکھنا، اس کی تشہیر کرنا، اس کے اجلاسوں کا اہتمام کرنا اور اس کے لوگو کی عوامی سطح پر نمائش جرم ہو گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گروپ کے برطانیہ میں مقیم ایک نمائندے نے تبصرے کے لیے ای میل کا فوری جواب نہیں دیا۔

گروپ نے گذشتہ ماہ اپنی ویب سائٹ پر پابندی لگائے جانے کو ’مایوسی کی علامت قرار دیا تھا۔‘

سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اگر کسی تنظیم کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ ’دہشت گردی میں ملوث ہے‘ اور اس کا کوئی عمل دہشت گردی کے مترادف ہے تو اس صورت میں وزیر داخلہ کو برطانوی قانون کے تحت اس پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ جیمز کلیورلی کے مطابق حزب التحریر پر پابندی لگانے کی کارروائی شروع ہو چکی۔

اے ایف پی کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ حزب التحریر یہودی مخالف ہے اور اس نے ’دہشت گردی‘ کو فروغ دیا۔

حزب التحریر پر بنگلہ دیش، مصر، جرمنی اور پاکستان سمیت وسطی ایشیائی اور عرب ممالک میں پہلے ہی پابندی لگائی جا چکی ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ جیمز کلیورلی
برطانوی وزیر داخلہ جیمز کلیورلی

کلیورلی کا کہنا تھا کہ ’حزب التحریر ایک یہودی مخالف تنظیم ہے جو دہشت گردی کو فعال طور پر فروغ میں مصروف ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔‘

کلیورلی کے پارلیمنٹ میں پیش کردہ بل پر ارکان پارلیمنٹ کے اتفاق کی صورت میں حزب التحریر پر 19 جنوری سے پابندی لگ جائے گی جس کے بعد اس تنظیم کی حمایت کرنا جرم بن جائے گا۔

اس جرم کی سزا 14 سال قید ہو سکتی ہے اور اثاثے بھی ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

برطانوی حکومت کے ایک بیان کے مطابق: ’برطانیہ یہود دشمنی کے خلاف کھڑا ہے اور کسی بھی شکل میں دہشت گردی کے فروغ کو برداشت نہیں کرے گا۔‘

برطانیہ کے ہوم آفس کے مطابق 1953 میں قائم ہونے والی اس تنظیم کا صدر دفتر لبنان میں ہے۔ یہ تنظیم برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کم از کم 32 ممالک میں سرگرم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں