دہائیوں بعد برطانیہ اپنی افواج کی نیٹو مشقوں میں سب سے بھاری نفری تعینات کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے اعلان کیا ہے کہ نیٹو کے لیے برطانیہ 20000 کی تعداد میں اپنے فوجیوں کو تعینات کرے گا۔ یہ سرد جنگ کےزمانے سے اب تک نیٹو کی سب سے بڑی جنگی مشقیں ہوں گی۔ یہ تعیناتی مغربی اتحاد کو درپیش بڑھے ہوئے خطرات کے پیش نظر کی جائے گی۔

پیر کو کیے گئے اس اعلان میں برطانوی وزیر دفاع نے کہا 'یہ چالیس برسوں کے دوران برطانیہ کی سب بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی ہو گی۔ یہ اس لیے کیا جارہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن کی طرف سے موجود خطرہ کا یقینی توڑ کیے جانے کی تیاری رہے۔ جو کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد ہو سکتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ یہ برطانوی فوجی ۔ رائل ائیر فورس، رائل نیوی اور آرمی تینوں کے دستوں پر مشتمل ہوں گے۔ یہ فوجی دستے سویڈن سمیت 31 دیگر نیٹو ارکان کے ساتھ تعینات کیے جائیں گے۔ واضح رہے سویڈن بھی ٹرانس اٹلانٹک میں شامل ہونے کا امیدوار ہے۔

برطانوی وزیر دفاع نے کہا آج کا نیٹو ماضی کے مقابلے میں بہت بڑا ہو چکا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آج کے چیلنج بھی ماضی کے مقابلے میں بڑے ہیں۔ انہی چیلنجوں کے پیش نظر برطانیہ نے نیٹو کے ساتھ اتنی بڑی فوجی نفری تعینات کر نے کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا 2024 میں اس سے بھی بڑے کام کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس لیے آج میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ ہم نے دہائیوں بعد اتنی بڑی تعداد میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر دفاع نے بتایا ،ان دستوں کے ساتھ جنگی طیارے، جاسوسی اور نگرانی کرنے والے طیارے، جدید بحری جنگی جہاز ، سمندری آبدوزیں اور خصوصی کارروائیوں کے لیے تیار خصوصی دستے سب شامل ہوں گے۔ نیز لندن شمالی بحر اوقیانوس، ناروے کے ساحلی علاقوں، بحیرہ بالٹک میں کیرئیر سٹرائیک بھیجے گا۔

اس کے ساتھ فلیگ شپ جنگی طیارے ایف 35 بی کے علاوہ ہیلی کاپٹر بھی موجود ہوں گے۔ علاوہ ازیں مشرقی یورپ میں 16000 برطانوی فوجی اگلے ہی ماہ سے تعینات کر دیے جائیں گے۔ یہ تعیناتی جون تک رہے گی۔

خیال رہے ماہ فروری میں یوکرین پر روسی حملے کو دو سال مکمل ہونے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے نیٹو کا یہ اعلان اور تیاری اہم ہو گی۔

برطانوی وزیر دفاع نے ماہ اگست 2023 میں وزارت سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی اور اہم تقریر میں کہا تھا سرد جنگ کا منافع جو امن کی صورت میں یورپ کو ملا تھا وہ ختم ہو چکا ہے اب ایک بار پھر مغربی اتحادیوں کو اپنے لیے امن خریدنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ چین، ایران، روس اور شمالی کوریا ایسے دشمنوں سے خطرات ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں