فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں اسرائیلی جنگ کی حمایت پر اسرائیلی فٹبالر ترکیہ میں زیرحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ میں کھیل کے دوران ایک اسرائیلی فٹبالر کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب اس نے اچانک غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل کے اس کھلاڑی کا نام ساگیو جیزکل بتایا گیا ہے جو ایک فٹبال کلب سے وابستہ ہے۔ اس نے 'ٹاپ فلائٹ لیگ گیم' کے دوران یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور ان سے اظہار یکجہتی کی۔ جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔

اسرائیلی وزیر انصاف یلماس ٹنک نے اتوار کو دیر گئے بتایا کہ اس حراست میں لیے گئے کھلاڑی سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس نے بین الاقوامی عوام کو کھلے عام نفرت اور دشمنی پر اکسانے کی کوشش کی ہے۔

وزیر انصاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کھلاڑی کا کھیل کے دوران اس طرح بولنا غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی حمایت میں ایک بدنما اشارے کے طور پر سمجھا گیا ہے۔

اسرائیلی کھلاڑی نے کھیل کے دوران گول کرنے کے بعد اپنی کلائی کے گرد ایک پٹی دکھائی جس یرغمالیوں کے سو دن مکمل ہونے کا لھا ہوا تھا۔

ترکیہ میں کھڑے ہو کر اسرائیل کی اس طرح حمایت کرنے پر اشتعال محسوس کیا گیا ہے۔ جہاں فلسطینیوں کی زبردست حمایت پائی جاتی ہے۔ ترکیہ کے لوگ ان 100 دنوں کے دوران 24 ہزار فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو اہم سمجھتے ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فٹبال کلب نے اس اسرائیلی فٹبالر کی کلب رکنیت معطل کر دی ہے اور اپنے وکلا کے مشورے سے کلب کا اس کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ختم کرنے کا مشورہ شروع کر دیا ہے۔

ترکیہ کی فٹبال فیڈریشن نے بھی اس کھلاڑی کا ترکیہ میں اس طرح اسرائیلی جنگ کی حمایت کوترک عوام کے ضمیر کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ ترکیہ حکومت کو اس کھلاڑی کی حراست پر شرم آنی چاہیے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل میں اس گرفتاری پر کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں