فلسطین اسرائیل تنازع

چین اور مصر کے وزرائے خارجہ کا غزہ میں جاری جنگ پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی مصر کے باضابطہ دورے پر مصر پہنچے تو ان کی مصری ہم منصب سامح شکری کے ساتھ دو طرفہ دلچسپی اور تعاون کے موضوعات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس دوران چین اور مصر کے درمیان سٹریٹجک معاہدے کے علاوہ غزہ میں جاری جنگ اہم ترین موضوعات تھے۔

بعد ازاں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے خطے کی صورت حال کے اس بحرانی مرحلے کے ماحول میں مشترکہ نیوز کانفرنس کی، چینی وزیر خارجہ نے صدر السیسی کے دور میں مصر اور چین کے درمیان ہر شعبے میں تعاون بڑھنے اور علاقائی امور پر تعمیری مشاورت کی تعریف کی۔

وزیر خارجہ بعض افریقی ملکوں کے دورے کے پہلے مرحلے کے طور پر قاہرہ آئے تھے۔ اب وہ تیونس، ٹوگو اور کوٹ ڈی آئیوائری کے دورے پر جا رہے ہیں۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ابوزید نے اس دورے کے بارے میں کہا 'دونوں ملکوں کی طرف سے وزرائے خارجہ نے جامع سٹریٹجک پارٹنر شپ کے معاہدہ برائے 2024/ 2028 پر دستخط کیے ہیں۔'

وانگ یی نے کہا پچھلے دس سال سے اس معاہدے پر دونوں ملکوں کے درمیان تعاون چل رہا ہے۔ مصری وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا ' غزہ میں موجود بد ترین صورت حال میں مزید خرابی بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں بحیرہ احمر میں جہازرانی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، تصادم پورے علاقے کی طرف پھیل رہا ہے۔

سامح شکری نے اس موقع پر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا مسئلے کو اس کی جڑ سے دیکھا جانا چاہیے اور اس کا حل نکالا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے۔ اسی راستے سے تنازعہ ختم ہو سکتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا ' بحر احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کی لازماً تحفظ کی ضمانت ملنی چاہیے۔ انہوں نے جنگ کے پھیلنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا ' چین بین الاقوامی امن کانفرنس بلانے کا کہہ رہا ہے تاکہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کا نفاذ ممکن ہو سکے۔ نیز یمن کے اقتدار اعلیٰ کا بھی اور بحر احمر سے جڑی سرحدوں والے ملکوں کی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔

مصر اور چین دونوں نے غزہ میں صورت حال پر تشویش ظاہر کی اور مسئلہ فلسطین کے جامع اور پائیدار حل کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں