بھارت میں صدیوں پرانی مسجد کی مسماری کے لیے سروے کرنے کا حکم سپریم کورٹ نے ختم کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارتی سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر عمل روک دیا ہے جس کے مطابق اتر پردیش کے متھرا شہر میں صدیوں پرانی مسجد کا سروے کیا جانا تھا کہ آیا اس قدیمی مسجد کے ساتھ کسی ہندو مندر کے آثار موجود ہیں یا نہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی حامی آر ایس ایس کے ملک میں سیاسی اثرات کے بعد بھارت میں سب سے بڑی اقلیتی آبادی مسلمانوں کی مساجد کے بارے میں شہر شہر یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ ان کا وجود باقی رہنا چاہیے یا نہیں اور کون سی ایسی مساجد ہیں جو مندر کی جگہ بنائی گئی ہیں تاکہ از سر نو مندروں کی تعمیر کی جاسکے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اسی لہر کے تحت ایودھیا شہر کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر کے بنائے گئے رام مندر کی افتتاحی تقریب سے محض چند دن پہلے سنایا گیا ہے۔ بابری مسجد کی جگہ بنائے گئے مندر کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی کرنے والے ہیں۔ جس کا ان کی جماعت بی جے پی کی مئی میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم سے گہرا تعلق ہے۔ بی جے پی کی پچھلی دہائی سے یہ کوشش نظر آرہی ہے کہ اپنی انتخابی مہم سے پہلے بھارت کی ہندو اکثریت کو رام کرنے اور ان کے ووٹوں کو اپنے نام کرنے کے لیے انتخابی برسوں اور انتخابی مہمات میں ایسے بڑے بڑے اقدامات کرے جیسا کہ 1992 میں شہید کی گئی بابری مسجد کی جگہ بنائے گئے رام مندر کا افتتاح ہے۔

واضح رہے بابری مجسد کو گرانے اور اس کی جگہ رام مندر کی مہم چلانے کے سارے عمل میں بی جے پی، نریندر مودی اور بی جے پی کے دوسرے اہم قائدین کا کردار بتایا جاتا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس پینل میں جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس دیپانکار دتا شامل تھے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے الہ آباد ہائیکورٹ کی طرف سے قدیمی مسجد کا سروے کرنے کے لیے بنایا گیا کمیشن بہت کمزور بنیاد پر ہے۔ واضح رہے دسمبر 2023 کو الہ آباد کی ہائیکورٹ نے کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔ تاکہ 17ویں صدی میں بنائی گئی اس مسجد کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے کہ یہ کسی مندر پر بنائی گئی ہے یا ہندو اکثریت کا اس بارے میں موقف درست نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مسجد کی تعمیرات میں بعض ہندوانہ علامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پچھلے ہی سال ایک اور عدالت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حلقے وارانسی میں مسلمانوں کی ایک دوسری قدیمی مسجد گیان ویاپی کو اسی طرح کے سروے سے جوڑا تھا تاکہ اس کے مستقبل کا بھی فیصلہ کیا جا سکے۔

خیال رہے امریکہ نے اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بھارت کا نام ابھی چند دن پہلے اپنی اس فہرست سے نکالا ہے جس میں اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک کرنے اور ان کے حقوق کا تحفظ نہ کرنے والے ملکوں کا ذکر ہے۔ یہ اس کے باوجود سہولت بھارت کو ملی ہے کہ اس کے ہاں اقلیتیں جن میں مسلمان، مسیحی برادری اور سکھ بطور خاص ہندو اکثریت کے ہاتھوں پریشان رہتے ہیں اور آئے روز ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں