سب سے طویل حملہ:ایرانی "خیبرشکن" میزائلوں نے شام ،عراق تک 1200 کلومیٹرفاصلہ طےکیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پیر کی رات ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے شام اور عراقی کردستان دونوں علاقوں میں بیلسٹک میزائلوں سے اہداف پر بمباری کی ہے۔

اسلامی جمہوریہ کی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے عراقی کردستان علاقے کے دارالحکومت اربیل میں "ایک جاسوسی ہیڈ کوارٹر" اور "ایران مخالف دہشت گرد گروہوں کے ایک مرکز کو" تباہ کر دیا ہے۔

ان حملوں کے بعد پاسداران انقلاب کی مقرب تسنیم نیوز ایجنسی نے "خیبر شکن" میزائل کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی اور تصدیق کی کہ پاسداران انقلاب نے شام کی شہر ادلب گورنری اور کردستان کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔

اس رپورٹ کے مطابق شام کے صوبے ادلب میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف آج صبح ہونے والی کارروائی کو ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے کی جانے والی سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل آپریشن کہا جانا چاہیے۔ کارروائی میں 4 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

منگل کی صبح تین بیانات میں ایرانی پاسداران انقلاب نے عراقی کردستان کے علاقے کے دارالحکومت اربیل پر حملے کو "موساد کے جاسوسی مرکز" پر حملہ قرار دیا۔ کردستان کی صوبائی حکومت نے کہا کہ میزائلوں نے عراقی کرد تاجر بیشرو دیزئی کے گھر کو نشانہ بنایا۔

ایران نے یہ بھی وضاحت کی کہ شام کے علاقے ادلب پرحملے میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی "تسنیم" ایجنسی نے لکھا کہ "پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر جنرل امیر علی حاجی زادہ کے اعلان کے مطابق تہران کے وقت کے مطابق پیر کی رات ٹھیک 12 بجے "خیپرشکن" قسم کے 4 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ انہیں جنوبی شہر اہواز سے تکفیری گروپ [داعش] کے ٹھکانوں پر داغ گیا۔

حاجی زادہ کے بیانات کی بنیاد پرتسنیم نے میزائل لانچنگ پوائنٹ جنوب مغربی اہواز سے ادلب تک کے فاصلے کا انداہ تقریباً 1,200 کلومیٹر لگایا اور اسے ایرانی پاسداران انقلاب کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل آپریشن قرار دیا۔

مقامی اطلاعات کے مطابق ایران نے جنوب مغربی اہواز میں واقع قصبے دار خوان کے قریب اور مغربی ایران کے کرمانشاہ اور مغربی آذربائیجان صوبوں سے میزائل داغے۔

ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ "تسنیم" ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ حملوں میں استعمال ہونے والے مذکورہ میزائل کو 2021 میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس سے تعلق رکھنے والے سطح سے زمین پر مار کرنے والے میزائل اڈے پر نصب کیا گیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق "خیبرشکن" بیلسٹک میزائل ایرانی پاسداران انقلاب کے تھرڈ جنریشن کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے ایک ہے۔ یہ حرکت میں ٹھوس ایندھن استعمال کرتا ہے اور لینڈنگ کے مرحلے میں یہ میزائل شیلڈز سے گذرنے کے لیے تدبیر کرسکتا ہے۔ اس کے جدید ماڈلز وزن میں کم اور زیادہ اسمارٹ ہیں۔

اس میزائل کی رینج 1450 کلومیٹر ہے۔یہ مشترکہ گائیڈنس سسٹم اور وار ہیڈ سے لیس میزائل ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی میزائل پروگرام امریکا اور مغرب کے درمیان تہران کے ساتھ اختلافی مسائل میں سے ایک ہے اور اسے علاقائی اور بین الاقوامی خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔

ایران پر خطے میں اپنی ملیشیاؤں کو میزائل، میزائلوں کے پرزے اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے مگر ایران ان کی تردید کرتا آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں