امریکہ اور بعض عرب و مغربی ملک متحدہ فلسطینی حکومت کی تشکیل کے لیے کوشاں ہیں: ناروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی سیاست اور ایشو کے لیے متحرک رہنے والے ملک ناروے کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کئی اتحادی ملک جن میں امریکہ، فکر مند عرب ملک اور متعدد مغرپی ممالک شامل ہیں، ایک متحدہ فلسطینی حکومت کی تشکیل کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نےان خیالات کا اظہار ڈیوس کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا 'یہ ممالک غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز جمع کرنے اور وسیع البنیاد فلطینی اتحادی حکومت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ تاہم انہوں نے ان ملکوں کا فوری طور پر نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا ناروے کا خیال ہے کہ ایک متحدہ فلسطینی علاقے کو فلسطینی اتھارٹی چلائے لیکن اس پر جس چیز کو سب سے زیادہ پیش کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ خود فلسطینی کیا چاہتے ہیں۔ '

یاد رہے ناروے 1992/ 1993 میں پی ایل او اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدہ کرانے میں سہولت کار رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا قیام اسی اوسلو معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود اختیارات کی حامل ہے۔

اوسلو معاہدے سے ناروے نے فلسطینی علاقوں کے لیے امدادی فنڈز کو بین الاقوامی سطح سے جمع کرانے میں فعال رہتا ہے۔

وزیر خارجہ ناروے نے کہا دوریاستی حل کے لیے کام فوری ہو رہا۔ نیز ہم فلسطینی اتحاد پر کام کر سکتے ہیں، اس سلسلے میں ہم مختلف ماڈلز کو بھی دیکھ رہے ہیں تاکہ اس مسئلے کا بھی حل نکل سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں