فلسطین اسرائیل تنازع

امریکہ غزہ جنگ بندی کے نئے معاہدے کے بدلے یرغمالوں کی رہائی کے لیے پر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ نے امید ظاہر کی ہے کہ قطر کے ذریعے ہونے والی بات چیت اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی میں جنگ بندی کے بدلے یرغمالوں کی رہائی کے لیے ایک نئی ڈیل کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ جنگ بندی کے معاملے پر عوامی طور پر زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے کیوں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ اس کا نتیجہ نکلے گا، اور جلد ہی پھل آئے گا۔"

یاد رہے کہ نومبر میں عارضی جنگ بندی کے دوران 100 سے زیاد ان یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا جنہیں حماس کے عسکریت پسندوں نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں اغوا کر کے غزہ منتقل کر دیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 132 مغوی اب بھی غزہ میں حماس کے قبضے میں ہیں اور لگ بھگ 24 مغوی جنگ کے دوران ہلاک یا مارے گئے تھے۔

قطر کے وزیرِ اعظم نے غزہ میں جاری تنازع کے پھیلنے کے خطرے کے حوالے سے دیرپا حل فراہم کرنے کے لیے دو ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ یمن میں مقیم حوثی باغیوں پر حملوں سے بحیرۂ احمر کی جہاز رانی پر حملے ختم نہیں ہوں گے، اس کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ غزہ کی جنگ کے مرکزی مسئلے کو حل کرنے پر توجہ دی جائے۔

ان کے بقول، "ہمارے پاس اس وقت خطے میں جو کچھ ہے وہ ہر جگہ کشیدگی کا ایک نسخہ ہے۔"

دوسری جانب غزہ میں جاری جنگ کو 100 دن سے زائد ہو چکے ہیں جہاں منگل کے روز اسرائیلی ٹینکوں نے شمالی غزہ کے ان حصوں میں دوبارہ دھاوا بولا جہاں سے وہ ایک ہفتہ قبل نکل گئے تھے۔

رات بھر اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں جب کہ اسرائیل کے آئرن ڈوم ڈیفنس نے سرحد پار سے عسکریت پسندوں کی طرف سے داغے گئے راکٹوں کو مار گرایا۔

اسرائیل کی جانب راکٹوں کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ حماس نے راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ حماس کی یہ صلاحیت اس بات کے باوجود برقرار ہے کہ اسرائیل نے بحیرۂ روم کے ساتھ ساتھ زیادہ تر تنگ علاقے کو تباہ کر دیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے غزہ کے شمالی کنارے پر بیت لاہیا میں رات بھر جھڑپوں میں حماس کے کئی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا کہ گزشتہ روز اسرائیلی بمباری میں 158 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24,285 ہو گئی ہے، یہ تعداد حماس کے جنگجو اور عام شہری دونوں پر مشتمل ہے۔

اسرائیل کے حماس کے خلاف حملے سات اکتوبر کے بعد ہوئے جب عسکریت پسندوں نے 1200 افراد ہلاک کر دیا اور 240 کے قریب لوگوں کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے تھے۔

اسرائیل نے منگل کو غزہ کی پٹی کے شمالی اور جنوبی حصوں میں فضائی حملوں کی تصدیق کی۔ یہ حملے ایسے وقت کیے گئے جب ایک روز قبل ہی اسرائیلی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ کا شدید مرحلہ جلد ختم ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملوں کے باوجود واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں "تشویش میں کمی" چاہتا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے سلیوان نے کہا، "ہم تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔"

سلیوان کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ باغیوں کے ساتھ تنازع کا انحصار "تہران میں اثر و رسوخ رکھنے والے اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر دارالحکومتوں میں اثر و رسوخ رکھنے والوں" پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ غزہ کی جنگ کو ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لیے ایک راستہ موجود ہے اور ہم پورے خطے میں شراکت داروں کے ساتھ یہ راستہ تلاش کرنے کے لیے بے تابی سے کام کر رہے ہیں۔

جیک سلیوان کے مطابق، ہمیں اس امکان سے بچنا اور چوکنا رہنا ہے کہ درحقیقت، تناؤ کی طرف بڑھنے کے بجائے، ہم ایک راستے پر ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ نے گزشتہ ہفتے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ یہ کارروائی حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے بحری جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں کی گئی۔

حوثیوں کے بحیرۂ احمر میں سمندری جہازوں پر حملوں سے عالمی تجارت میں خلل پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں