غزہ میں 'دلگیر' مناظر پر ماتم کرتے ہوئے امریکہ کی طلب ہے: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے بدھ کے روز ڈیووس میں کاروباری اور سیاسی رہنماؤں سے کہا کہ وہ اپنے کیرئیر میں ایسے وقت کے بارے میں نہیں سوچ سکتے جب غزہ اور یوکرین کی جنگ سے لے کر تائیوان میں کشیدگی تک زیادہ عالمی چیلنجز تھے۔

بلنکن نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ جن مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے ان میں سے تقریباً کسی بھی مسئلے کو تنہائی میں حل نہیں کیا جا سکتا۔ منگل کے روز چینی وزیرِ اعظم لی کیانگ نے تبصرہ کرتے ہوئے عالمی تعاون پر زور دیا تھا۔

غزہ میں تنازعہ کو "دلگیر" قرار دیتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ اس صورتِ حال کو حل کرنے کے لیے جس چیز کی ضرورت تھی وہ ایک حکومتی ڈھانچہ کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست تھی "جو لوگوں کو دے جو وہ چاہتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ مؤثر طور پرے کام کرے۔"

ڈیووس کے سوئس سکی ریزورٹ میں ورلڈ اکنامک فورم کے کلیدی سیشن کے دوران انہوں نے کہا، "تکلیف سے میرا دل ٹوٹ گیا۔" اور مزید کہا: "سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے۔"

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن شرقِ اوسط کے تقریباً ہر ملک سے سن رہا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ امریکہ غزہ میں حماس کے مزاحمت کاروں کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کو ختم کرنے کے بارے میں مذاکرات کی میز پر ہو۔

بلنکن نے پینل کے سامعین کو بتایا، "امریکی شراکت داری پر پہلے سے کہیں زیادہ پریمیم ہے۔"

غزہ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے مزاحمت کاروں نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر یلغار کر دی جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اسرائیل کے مطابق 130 سے زائد بدستور قید میں ہیں۔

اسرائیل نے حماس کے حملے کا جواب غزہ کے محاصرے، بمباری اور زمینی حملے سے دیا جس نے چھوٹے سے ساحلی علاقے کو تباہ کر دیا اور غزہ کے صحت کے حکام کے مطابق 24,000 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔

یوکرین میں جنگ بندی کا کوئی فوری امکان نظر نہیں آتا

کیا روس اور یوکرین کے درمیان فوری طور پر جنگ بندی کا کوئی امکان ہے، اس سوال پر بلنکن نے کہا کہ ان کے خیال میں ایسا نہیں ہے حالانکہ امریکہ ہمیشہ اس کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال کے تنازعے کے بعد یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے رقم اور وسائل کی ضرورت ہے، اس اعتبار سے نجی شعبہ ملک کا دورہ کر رہا تھا اور یہ عمل "بہت بڑا اور اہم بن رہا" تھا۔

منگل کو چین کے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھلے ہونے کے بارے میں چینی وزیرِ اعظم لی کے تبصروں کے بعد بلنکن نے کہا کہ امریکہ بیجنگ کے ساتھ کاروبار پر "بہت براہِ راست اور واضح طور پر" معاملہ کر رہا تھا اور جہاں دونوں کے درمیان اختلافات تھے، وہاں "مزید تعاون کرنے کی جگہیں بھی تھیں۔"

تائیوان جہاں حکمران ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) نے ہفتے کے روز صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، کے معاملے پر کشیدگی کے بارے میں سوال پر بلنکن نے آبنائے تائیوان کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا، اس جزیرے کا دنیا میں ایک بڑا مقام ہے۔

انہوں نے کہا، بالخصوص سیمی کنڈکٹر چپس بنانے میں تائیوان کے کردار کے حوالے سے سب کے یکساں مفادات ہیں ۔

دنیا بھر میں امریکہ کو درپیش چیلنجوں کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بلنکن نے جنگ کے وقت کے برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کے الفاظ پر روشنی ڈالی۔

بلنکن نے کہا، "جب مشکل چیزوں کی بات آتی ہے۔۔۔ جب آپ ایک جہنم سے گذر رہے ہوں تو آگے بڑھتے رہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں