ہماری ترجیح غزہ اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی ہے: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بحیرہ احمر میں کشیدگی اور خطے میں عمومی طور پر سلامتی کے بارے میں مملکت کی طرف سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سرگرمیوں کے دوران ایک ڈائیلاگ سیشن کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ کی جنگ پورے خطے کو بڑے خطرات کی طرف گھیسٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں کا تعلق غزہ کی جنگ سے ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اسرائیل کی طرف سے جنگ اور کشیدگی کو روکنے کے لیے کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ ہماری ترجیح کشیدگی کو کم کرنے کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے اور اس کا انحصار غزہ میں جنگ کو روکنے پر ہے"۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ "غزہ میں جنگ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو مزید کچھ کرنا چاہیے۔ غزہ میں جنگ مسلسل مصائب بڑھنے کے واقعات کا باعث بنیں گی"۔

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک
جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک

شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ "اسرائیل کی سلامتی فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے فلسطینیوں کی سلامتی کے حصول سے منسلک ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "امن کی طرف پہلا قدم تمام فریقین کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیل غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے اس سے خطے کی سلامتی امن کو خطرہ ہے۔"

اس موقعےپر جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ اسرائیل اور غزہ میں شہری ایک المیے سے گذر رہے ہیں۔ ہم تنازعہ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، لیکن پہلے قیدیوں کو آزاد کیا جانا چاہیے اور غزہ میں ہونے والے المیے کو کم کرنا چاہیے۔ دو ریاستی حل بہترین راستہ ہے، لیکن اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے سلامتی کی ضمانت ہونی چاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں