ہیومن رائٹس واچ کا لبنان میں قید ہنیبل قذافی کی رہائی کا مطالبہ

ہنیبل قذافی کی مسلسل حراست لبنانی عدلیہ کےلیے مذاق بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہیومن رائٹس واچ نے لبنانی حکام پر زور دیا کہ وہ لیبیا کے سابق رہ نما کرنل معمر قذافی کے بیٹے ہنیبل قذافی کو رہا کریں، جنہیں "جعلی" کے الزامات کے تحت آٹھ سال سے مقدمے کی سماعت سے پہلے حراست میں رکھا گیا ہے۔

دسمبر 2015ء میں لبنان نے معمرقذافی کے بیٹے کو گرفتار کیا۔ انہیں امام موسیٰ الصدر اوران کے دو ساتھیوں کی گمشدگی کے بارے میں "معلومات چھپانے" کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جنہیں آخری بار 31 اگست 1978ء کو لیبیا میں دیکھا گیا تھا جب وہ ایک سرکاری دعوت پر وہاں پہنچے تھے مگر اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی پتا نہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "لبنانی حکام کو فوری طور پر ہنیبل قذافی کو رہا کرنا چاہیے۔

تنظیم کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر حنان صلاح نے کہا کہ "آٹھ سال قبل اس مقدمے کی حراست میں گزارنے کے بعد ہنیبل قذافی کی مبینہ طور پر من مانی نظربندی لبنان کے پہلے سے کمزور عدالتی نظام کا مذاق اڑانے کا باعث بن رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "لبنانی حکام نے طویل عرصے سے ہنیبل قذافی کو حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہیں ان الزامات کو چھوڑ کر رہا کرنا چاہیے"

لبنان کی شیعہ برادری الصدر اور ان کے دو ساتھیوں کی گمشدگی کا ذمہ دار معمر قذافی کو ٹھہراتی ہے لیکن لیبیا کی سابقہ حکومت نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی اور اس بات پر زور دیا کہ تینوں طرابلس سے اٹلی کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

حنان صلاح نے کہا کہ "ہمیں احساس ہے کہ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ امام الصدر کے ساتھ کیا ہوا ہے، لیکن کسی کو محض اس وجہ سے کئی سالوں تک مقدمے سے پہلے حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے کہ وہ غلط کام کرنے کے ذمہ دار شخص سے تعلق رکھتا ہو"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں