امریکا نے حوثیوں کو دوبارہ بلیک لسٹ کرکے معاونت کاروں کو بھی وارننگ دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے حوثی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد بھی انسانی بنیادوں پر بعض سرگرمیوں کی اجازت دے گا۔

بدھ کے روز امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر پانچ لائسنس شائع کیے گئے جو متعدد متعلقہ کارروائیوں کی اجازت دیتے ہیں۔ ان پانچ انسانی شعبوں میں حوثیوں پر پرپابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ نے حوثیوں کی حمایت کرنے والے کسی بھی شخص پر پابندیاں عائد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے پہلی بار دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کے بعد اپنی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔

حوثیوں کو بلیک لسٹ کرنے سے ایران پر اثر پڑے گا

اس تناظرمیں ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ پیش رفت ایران کو متاثر کرے گی اور اس کے لیے حوثیوں کی حمایت جاری رکھنا مشکل بنا دے گی۔ اگر ایران کی طرف سے ان کی حمایت جاری رہتی ہےتو ایران کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے"۔

امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے حوثیوں کے خلاف کیا گیا یہ فیصلہ 30 دن کے بعد یعنی 16فروری 2024ء کو نافذ العمل ہو جائے گا۔
امریکی انتظامیہ کے سینیر اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ حوثیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ 30 دن تک نافذ نہیں ہوگا۔ اگر حوثی اپنے حملے بند کر دیتے ہیں تو اس فیصلے کومنسوخ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اہلکار نے مزید کہا کہ "ہم نے حوثیوں کو (بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر) حملے بند کرنے کی بار بار وارننگ دی لیکن وہ باز نہیں آئے"۔

انہوں نے یاد دلایا کہ "امریکا نے 'آپریشن خوشحالی گارڈین' شروع کیا۔ اس آپریشن میں 20 سے زائد ممالک شامل تھے جو بین الاقوامی جہاز رانی کے دفاع اور بحیرہ احمر میں حملوں کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں"

۔

امریکی فوج کے ایک طیارے نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا - رائٹرز
امریکی فوج کے ایک طیارے نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا - رائٹرز

اہلکار نے جاری رکھا: "امریکا نے بھی رواں ماہ حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت میں 40 سے زائد ممالک کا ساتھ دیا۔ امریکا نے 13 اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر انتباہ جاری کیا کہ اگر حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "امریکی فوجی دستے برطانیہ، آسٹریلیا، بحرین، کینیڈا اور ہالینڈ کے تعاون سے یمن میں متعدد اہداف کے خلاف حملے کرنے میں کامیاب رہے۔انہیں حوثی جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

صحافیوں سے بات کرنے والے امریکی اہلکار نے زور دے کر کہا کہ "ہم تنازعہ میں اضافہ اور توسیع نہیں چاہتے اور نہ ہی ہم یمنی عوام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حوثی سرگرمیاں یمن میں امن کے حصول سے مطابقت نہیں رکھتیں اور خطے میں امن معاہدے پر عمل درآمد میں مزید پیش رفت میں رکاوٹ ہیں"۔

خیال رہے کہ یمن کے ایران نواز حوثیوں اور امریکا کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب گذشتہ ماہ حوثیوں نے غزہ میں جاری جنگ میں فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے بحیرہ احمر سے اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے شروع کردیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں