ضروری ہوا تو عراق میں پھر کارروائی کی جائے گی: ترک وزارت دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر دوبارہ بھی ضروری محسوس ہوا تو عراق اور شام میں کارروائی کی جائے گی۔ ترک وزارت دفاع کے حکام نے اس موقف کا اظہار پچھلے ہفتے کے دوران ترک فوج کے ہلاک ہونے والے 9 فوجیوں کے بارے میں کیا ہے۔

ترکیہ کی فوج کے 9 اہلکار کرد جنگجووں کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران پچھلے ہفتے ہلاک ہوئے تھے۔ جس کے بعد ترکیہ کی افواج نے سرحد پار عراقی کردستان میں ایک آپریشن کیا تھا۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کے حکام نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ترکیہ کو یہ پورا حق ہے کہ جہاں ضروری ہو وہاں آپریشن کرے۔

ترکیہ کی افواج کے کرد جنگجووں کے ساتھ جھڑپ زیپ ریجن کے علاقے میں ہوئی جو عراق کے شمال میں ہے۔ واضح رہے ترک افواج 2019 سے سرحد پار کر کے عراقی علاقے میں کرد جنگجووں کے خلاف اس طرح کے آپریشن کر رہے ہیں۔ تاکہ اپنے بارڈر کو کرد جنگجووں سے محفوظ رکھ سکیں۔

ترک حکام نے بتایا کہ 12 جنوری کو کرد جنگجووں نے ترکیہ کے کئی فوجی اڈوں کو بیک وقت نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں عراق کے شمالی علاقوں کی طرف سے کی گئیں۔ اس وقت تاریکی اور موسمی شدت کی وجہ سے حد نگاہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ یوں ترکیہ کی فوج صرف ایک کارروائی کو روک سکی تھی۔

ترک حکام کے مطابق اس طرح کے تصادم عام طور پر ترکیہ کے جنوب مشرق میں دیہی علاقوں میں ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب کی بار یہ واقعات پہاڑی علاقوں میں بطور خاص دیکھنے میں آئے۔ عراق میں ان علاقوں کو کردوں کے نیم خودمختار علاقوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ترکیہ کی وزارت دفاع کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں شام اور عراق دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ شام وہ علاقہ ہے جہاں سے دہشت گردوں کی بڑی تعداد دستیاب ہوتی ہے اور وہ عراق پہنچتے ہیں۔

اس سے پہلے ترکیہ شام میں بھی دہشت گردی کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں کر چکا ہے کیونکہ کرد جنگجووں کے حوالے سے عمومی تصور یہی ہے کہ شام میں کام کرنے والی کرد تنظیم 'وائے پی جی' عراق میں کرد جنگجووں کی تنظیم 'پی کے کے' کا ذیلی حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں