نیوزی لینڈ کی ایرانی نژاد رکن پارلیمنٹ چوری کے الزامات کے بعد مستعفی

سی سی ٹی کیمروں میں گلریز قہرمان کو دو بار مختلف اسٹوروں سے چوری کرتے دیکھا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیوزی لینڈ کی پہلی خاتون پناہ گزین رُکن پارلیمنٹ نے مقامی میڈیا کی جانب سے ایک اسٹورسے چوری کی فوٹیج نشر کیے جانے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

الزامات کا ذکر کیے بغیر نیوزی لینڈ گرین پارٹی کے رکن اور وزارت انصاف اور خارجہ امور کے ترجمان گلریز قہرمان نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ "میرے کام سے متعلق دباؤ کی وجہ سے میں اپنے کردار کے بالکل برعکس برتاؤ کرنے پر مجبور ہوں"۔

گلریز کہرمان
گلریز کہرمان

انہوں نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ "افراد اپنے منتخب نمائندوں سے اعلیٰ ترین معیار کی توقع رکھتے ہیں لیکن میں ایسا کرنے میں ناکام رہی، مجھے افسوس ہے۔ یہ ایسا سلوک نہیں ہے جس کی میں وضاحت کر سکوں کیونکہ یہ کسی بھی طرح دانش مندانہ نہیں ہے۔ طبی معائنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اپنی دماغی صحت کا خیال رکھنے کے لیے میں جو سب سے بہتر کام کر سکتی ہوں وہ یہ ہے کہ میں بطور ممبر پارلیمنٹ اپنے عہدے سے استعفیٰ دوں اور صحت یابی پر توجہ مرکوز کروں۔ دنیا میں مثبت تبدیلی کے لیے کام کرنے کے دوسرے طریقے تلاش کروں"۔

مقامی میڈیا نے قہرمان پر الزام لگایا کہ انہوں نے گذشتہ سال کے آخری ہفتوں میں آکلینڈ میں اسکاٹیز کے ایک اسٹور اور ویلنگٹن کے ایک اور اسٹور میں دو بار چوری کی تھی۔

منگل کو نیوزی لینڈ ہیرالڈ اخبار نے آکلینڈ میں ایک اسٹور سے ہینڈ بیگ چوری کرنے والی 42 سالہ کہرمان کی نگرانی کے کیمروں سے فوٹیج شائع کی۔

آکلینڈ میں وہ اسٹور جہاں چوری کی واردات ہوئی
آکلینڈ میں وہ اسٹور جہاں چوری کی واردات ہوئی

قابل ذکر ہے کہ کہرمان ایک ایرانی نژاد آکسفورڈ گریجویٹ انسانی حقوق کے وکیل ہیں جنہوں نے ایران عراق جنگ کے بعد نیوزی لینڈ میں سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔ وہ 2017 میں نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والی پہلی پناہ گزین بن گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں