پاکستان-ایران حملے: تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں تمام ضروری معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

تہران کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر اسرائیل سے منسلک عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے جس کے دو دن بعد پاکستان نے جمعرات کو ایران کے اندر مہلک جوابی حملے کیے۔

پاکستان کے حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں جب کہ ایران کے پاکستان پر حملے میں دو بچے جان سے گئے۔

جمعرات کے حملے صوبہ سیستان-بلوچستان میں ہوئے جن کے بارے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انتہائی مربوط اور خصوصی ہدف پر درست فوجی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔

ایران پاکستان حملوں میں کب تیزی آئی اور کیوں؟

پاکستان پر ایران کا حملہ منگل کو تادیر اس وقت ہوا جب تہران نے عراق اور شام میں بھی "ایران مخالف دہشت گرد گروہوں" کے خلاف حملے کیے تھے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا، "پاکستان کی سرزمین" پر ایران کا حملہ اسلامی جمہوریہ ایران خصوصاً اس کےجنوب مشرقی صوبے سیستان-بلوچستان کے شہر راسک پر جیش العدل گروپ کے حالیہ مہلک حملوں کا جواب تھا۔

10 جنوری کو شہر کے ایک پولیس سٹیشن پر حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا جو اس علاقے میں اسی طرح کے ایک حملے میں 11 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے تقریباً ایک ماہ بعد ہوا۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری ایک سنی مسلم انتہا پسند گروپ جیش العدل (عدل کی فوج) نے قبول کی تھی جو 2012 میں تشکیل دیا گیا تھا اور جسے ایران نے "دہشت گرد" گروپ کے طور پر بلیک لسٹ کیا ہوا ہے۔

جیش العدل گروپ کیا ہے؟

جیش العدل ایک انتہا پسند سنی عسکریت پسند گروپ ہے جو جنداللہ کی شاخ ہے جسے عبدالملک ریگی نے 2002 کے قریب قائم کیا تھا۔ 2010 میں ریگی کی پھانسی تک اس کی قیادت میں یہ 2012 میں الگ ہو جانے والے ایک نمایاں گروپ کے طور پر ابھرا۔ جنوب مشرقی ایران اور پاکستان کے مغربی صوبہ بلوچستان میں کام کرنے والے گروپ کا دعویٰ ہے کہ وہ نسلی اقلیتی بلوچوں کے لیے زیادہ حقوق اور زندگی کے بہتر حالات کا خواہاں ہے۔ اسے امریکی محکمۂ خارجہ نے اس کے پیشرو جنداللہ کے ساتھ ایک "غیر ملکی دہشت گرد تنظیم" کے طور پر نامزد کیا ہے۔

ایران کے خلاف پاکستان کی جوابی کارروائی

تہران کی جانب سے پاکستان میں ایک عسکریت پسند گروپ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملے کے ایک دن بعد بدھ کے روز ایران کے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے ایک افسر کو ملک کے شورش زدہ جنوب مشرق میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے اس واقعے کو "دہشت گردانہ" حملہ قرار دیتے ہوئے اطلاع دی کہ کرنل حسین علی جاودنفر کو ایران کے صوبہ سیستان-بلوچستان میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ایجنسی نے کہا کہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے کوششیں جاری تھیں۔

تقریباً 24 گھنٹے بعد پاکستان کی فضائیہ نے مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جمعرات کو علی الصبح ایران پر جوابی فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوا۔

ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ کئی میزائل پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ سیستان-بلوچستان کے ایک گاؤں پر گرے جس میں تین خواتین اور چار بچے ہلاک ہوئے جو تمام غیر ایرانی تھے۔

دنیا بھر میں مذمت

امریکہ نے بدھ کو پاکستان، عراق اور شام میں ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اس وقت نامہ نگاروں کو بتایا، "لہذٰا ہم ان حملوں کی ضرور مذمت کرتے ہیں۔ ہم نے گذشتہ دو دنوں میں ایران کو اپنے تین ہمسایہ ممالک کی خود مختار سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے دیکھا ہے۔"

پاکستان نے دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد کے قریب حملے کی مذمت کی، ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور تہران کے ایلچی کو اسلام آباد واپس آنے سے روک دیا۔

اب کیا ہوگا؟

چونکہ دونوں ممالک عسکریت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے تاریخی طور پر ایک دوسرے پر شبہ کرتے ہیں تو ان حملوں سے ایران اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ کشیدگی میں اضافے کا امکان جمعرات کو بھی برقرار ہے کیونکہ ایران اپنی طے شدہ سالانہ فضائی دفاعی مشق ولایت 1402 شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو پاکستان کے قریب چابہار بندرگاہ سے شروع ہو کر پورے جنوبی علاقوں میں عراق تک پھیلی ہو گی۔ اس مشق میں حقیقی فائر سرگرمیاں شامل ہوں گی جو ہوائی جہاز، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام کا احاطہ کرتی ہیں۔

ایران اور پاکستان کو اسمگلنگ اور عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کے ساتھ جاری چیلنجز کا سامنا ہے جن کی 900 کلومیٹر (560 میل) طویل مشترکہ سرحد ہے جس کی خصوصیت لاقانونیت ہے۔ یہ غیر محفوظ سرحد افغانستان سے ہونے والی افیون کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم راستے کا بھی کام دیتی ہے۔

سرحد پار سے ہونے والے حملے ایران اور پاکستان دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں جو ان کی متعلقہ فوجی قوتوں کی تیاری کا از سرِ نو جائزہ لینے پر راغب کرتے ہیں جن میں بالخصوص ریڈار اور فضائی دفاعی صلاحیتوں پر توجہ دی جاتی ہے۔

یہ صورتِ حال شرقِ اوسط میں موجودہ کشیدگی میں بھی اضافہ کرتی ہے جس کی نشاندہی غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ اسرائیل کے تنازعے کے علاوہ بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں سے ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں