یورپی پارلیمنٹ کی غزہ پر قرارداد، جنگ بندی کا مشروط مطالبہ

مستقل جنگ بندی کے لئے قیدیوں کی رہائی اور حماس کے خاتمے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی پارلیمنٹ کے قانون سازوں نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے سے اتفاق نہ کرنے کا ایک بار پھر اشارہ دیا ہے۔ جمعرات کے روز یورپی پارلیمنٹ نے اپنے اجلاس کے بعد تقریباً وہی بات کہی ہے جو اسرائیل کا مسلسل موقف چلا آرہا ہے اور جسے قبول کرنے کے لیے حماس تیار نہیں ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیلی یرغمالیوں کو پہلے رہا کیا جائے۔ نیز غزہ سے حماس کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ جبکہ حماس جنگ بندی سے پہلے کسی صورت یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کا واضح موقف دے چکا ہے۔

یورپی یونین نے قدرے فرق کے ساتھ تین مختلف گروپوں جن میں سوشلسٹ، سینٹرسٹ اور گرینز شامل ہیں سب نے ایک قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی کہ مستقل جنگ بندی اور غزہ کے سیاسی حل کی جانب از سر نو کوشش شروع کی جائے۔ مستقل جنگ بندی کے لیے از سر نو کوشش کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ ان کوششوں کے نتائج کے لیے وقت درکار ہوگا اور غزہ کے سیاسی حل کا مطلب یہ ہے کہ حماس کی جگہ کسی اور کو غزہ کا حکمران بنایا جائے۔

قرارداد کے متن میں جو مطالبہ دو ٹوک اور فوری نوعیت کا شامل کیا گیا ہے وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی فوری رہائی اور حماس کے مکمل خاتمے سے متعلق ہے۔ واضح رہے مستقل جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کے مطالبے کو بھی یورپی یونین میں دائیں بازو کی نمائندگی کرنے والی یورپی پیپلز پارٹی نے ایک شرط شامل کی ہے کہ پہلے یرغمالیوں کو رہا کیا جائے اور حماس کو ختم کیا جائے۔ اس قراداد کو یورپی یونین نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔

یاد رہے یورپی پارلیمنٹ کی قراردادیں سفارشی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ تاہم ان قراردادوں کی سفارشات سے جہاں یورپی یونین کے خیالات اور پالیسیوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے وہیں یہ قراردادیں یورپی یونین کے ممبر ملکوں کے مستقبل قریب میں فیصلوں کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی یہ تازہ قرارداد یورپی یونین کے دیگر اداروں، یورپی یونین کے ارکان ملکوں، اسرائیلی حکومت، اقوام متحدہ اور مصر کو بھیجی جائے گی۔ قرارداد میں 7 اکتوبر کے روز اسرائیل پر ہونے والے حماس کے حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ مگر غزہ میں اسرائیل کے مسلسل حملوں، بمباری اور اس کے نتیجے میں اب تک ہو چکی عورتوں اور بچوں سمیت 24 ہزار سے زائد فلسطنیوں کی ہلاکتوں کی مذمت شامل نہیں کی گئی ہے۔ البتہ انسانی بنیادوں پر اسرائیلی جنگ میں قدرے توقف کا مطالبہ ضرور کیا گیا۔ پچھلے کئی ماہ سے امریکہ اور یورپی یونین کی پالیسی یہی رہی ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی کے بجائے جنگ میں مختصر وقفے کی بات کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں